ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کو رٹ میں عمران خان کی چپل ٹوٹ گئی ،پھر کیا ہوا ؟

datetime 9  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کو رٹ میں عمران خان کی چپل ٹوٹ گئی ،پھر کیا ہوا ؟ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سپریم کورٹ میں چپل ٹوٹ گئی ، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی لابی میں عمران خان کی چپل پر کسی کا پائوں آگیا جس کی وجہ سے زور لگنے پر عمران خان کی چپل کا اسٹریپ ٹوٹ گیا ۔
عمران خان کی چپل ٹوٹنے پر تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے اپنا جوتا اتار کر عمران خان کو دیا ،جسے پہن کر وہ سپریم کورٹ سے بنی گالہ کے لیے روانہ ہوئے جبکہ عثما ن ڈار اپنے موزوں میں سپریم کورٹ سے پیدل چل کر اپنی گاڑی تک پہنچے ۔
دوسری جانب پانامالیکس کیس میں تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ شریف خاندان کو بچانے کے لئے سرکاری وسائل استعمال کئے جارہے ہیں لیکن قوم پاناما کے ملزمان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔خواہش ہے پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں میں دوریاں ختم ہو جائیں۔سپریم چچکورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاناما لیکس کیس میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاناما ایک سال کے لئے ملتوی ہوگیا ہے، سماعت 2017 میں ہوگی۔
چھٹیوں کے دوران بھی کام سپریم کورٹ کی روایت ہے، ہمیں ججز کی چھٹیوں پر اعتراض نہیں، عدالت نے مناسب سمجھا کہ چھٹی کی جائے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔بابراعوان نے کہا کہ شریف خاندان کو بچانے کے لئے سرکاری گاڑیاں، پیٹرول، سرکاری کھانے اور ریاست کے وسائل سمیت پوری سرکار بھی استعمال ہوئی اور کہا گیا کہ دسمبر بھی گزر جائے گا اس کا کیا مطلب ہے۔
آج بھی سپریم کورٹ میں نعرے بازی کی گئی یہ نعرے لگانے والے وہی ہیں جنہوں نے پہلے بھی نعرے لگانے کے بعد ججوں کی تختیاں توڑی تھیں پھر چیف جسٹس کے کمرے پر حملہ کیا تھا، یہ کیا معاملہ اور پلان ہے،عوام اور میڈیا ان سے جواب لے۔عمران خان کے قانونی معاون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احتساب کے لئے میری دعا بھی ہے اور کوشش بھی، ہم چاہتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف اپوزیشن متحد ہوجائے لیکن کرپشن کے خلاف اگر ہم اکیلے بھی رہے تو احتساب کیلئے کوشش جاری رکھیں گے اور قوم بھی پاناما کے ملزموں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن میں دوریاں ختم ہونی چاہئیں، اکیلے بھی رہے تو احتساب کیلئے کوشش کریں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…