ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

مریم صفدرکس کی زیرکفالت ہیں؟شریف فیملی کے کاروبار کے سی ای او کے انکشافات

datetime 6  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن)شریف خاندان کاروبارکے سی ای اوہارون پاشانے کہاہے کہ لندن میں سرمایہ کاری دبئی کی اسٹیل ملزکی فروخت سے حاصل شدہ رقم سے ہوئی ،عدالت میں ثبوت پیش کریں گے ،عدالت کواطمینان بخش جواب دیئے جائیں گے ،مریم صفدرکسی بھی طرح نوازشریف کی زیرکفالت نہیں ،ان کے ٹیکس گوشواروں میں تمام ذرائع آمدن واضح ہیں ۔
نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ جوبھی سرمایہ کاری لندن میں ہوئی وہ دبئی کی سٹیل مل کی فروخت سے حاصل شدہ رقم سے ہوئی ،دبئی کی مل کوبیچ کرساری ادائیگیوں کے بعدایک کروڑ20لاکھ درہم ہاتھ میں آئے ،12ملین درہم قطری خاندان کوسرمایہ کاری کیلئے دیئے گئے ،اس بزنس سے ریٹرن ملنے پریہ پیسہ بڑھتاگیااوریہی رقم لندن کے فلیٹ خریدنے کیلئے استعمال ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ اس معاملے پرکچھ تفصیلات عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں ،میاں صاحب نے جتنا مناسب سمجھاوہ تفصیلات پارلیمنٹ میں بتائیں ،باقی تفصیلات مناسب فورم پردیدیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے وکلاء نے جس حدتک مناسب سمجھاوہ تفصیلات عدالت میں دیں گے یہ وکلاء کی صوابدیدہے ۔انہوں نے کہاکہ قطرمیں سرمایہ کاری کامعاملہ میاں شریف اورقطری شاہی خاندان کے درمیان تھاجوتفصیلات تھیں وہ دی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مریم صفدرکے اپنے ذرائع آمدن ہیں وہ کسی بھی طرح نوازشریف کے زیر کفالت نہیں ہیں ،ان کے تمام تراثاثے ظاہرکئے گئے ہیں اورٹیکس ریٹرنزمیں تمام ذرائع آمدن کی تفصیلات بتائی گئی ہیں وہ زرعی زمین کی مالک ہیں۔نوازشریف کی والدہ کے اثاثوں میں مریم صفدرکی جانب سے دی گئی تمام رقم کاذکرہے ،مریم صفدرکا2013ء سے قلب کے ریٹرنزعدالت نے طلب کئے ،تووہ بھی دیں گے ،تمام چیزیں عوامی ریکارڈکاحصہ ہیں ،2016ء میں مریم کی آمدنی ایک کروڑ16لاکھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حسن نوازنے 2001ء میں کمپنی بنائی جواب بھی کاروبارکررہی ہے

،فلیپ شپ انوسٹمنٹ نامی کمپنی کا 2016ء کاٹرن آؤٹ تقریباً50ہزارپاؤنڈہے ،ان کے ارب پتی ہونے کی تمام باتیں غلط ہیں ،اس کمپنی کے اثاثہ جات 6لاکھ 15 ہزار پاؤنڈہیں، حسین نوازکی دیگرکمپنیاں بھی ہیں جن کی تفصیل اس وقت میرے پاس نہیں ہیں ،حسن نوازارب پتی بھی نہیں اوران کے حالات برے بھی نہیں وہ اچھی خاصی آمدن حاصل کررہے ہیں ،حسن نوازبرطانیہ میں ٹیکس دیتے ہیں ان کے اثاثے ان کے ٹیکس ریٹرن سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔#/s#۔(یاسرعباسی)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…