جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

افغان صدر اپنے عوام کو عزیز رکھیں اور مودی کی زبان نہ بولیں، خورشید شاہ

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ افغان صدر اپنے عوام کو عزیز رکھیں اور مودی کی زبان نہ بولیں ، افغان صدر بھارت کے ساتھ نئی نئی مگر عارضی دوستی میں اتنا دور نہ نکل جائیں کہ پھر انہیں واپسی میں مشکل ہو، اشرف غنی وہ وقت بھی بھول گئے جب سویت یونین کے حملے کے وقت بھارت روس کے ساتھ کھڑا تھا اور افغانستان کی بربادی کا تماشا دیکھ رہا تھا ، افغان صدر کا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب انتہائی قابل مذمت ہے،پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی اور پھر دہشت گردی اور بد امنی کا اکھاڑہ بن گیا مگر ہم نے افغانستان کو برادر ملک ہونے کے ناطے کبھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ۔

پیر کو افغان صدر اشرف غنی کی بھارت میں منعقدہ ہارٹ اف ایشیا کانفرنس میں پاکستان مخالف تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صدر بھارت کے ساتھ نئی نئی مگر عارضی دوستی میں اتنا دور نہ نکل جائیں کہ پھر انہیں واپسی میں مشکل ہو۔ انہوں نے کہا کہ افغان صدر اپنے عوام کو عزیز رکھیں اور مودی کی زبان نہ بولیں ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک نہ صرف لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کی بلکہ مشکل ترین وقت میں افغانستان کے عوام کو ان کے ملک میں اپنے بری اور بحری راستوں کے ذریعے ضروریات زندگی بھی مہیا کیں۔ انہوں نے کہا کہ اشرف غنی وہ وقت بھی بھول گئے جب سویت یونین کے حملے کے وقت بھارت روس کے ساتھ کھڑا تھا اور افغانستان کی بربادی کا تماشا دیکھ رہا تھا اور اج بھی بھارت افغانستان کے ساتھ پاکستان کے بغض اور حسد میں دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے اور افغانستان پر جلد ہی اس دوستی کا پردہ چاک ہو جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ افغانستان سالہا سال تک عالمی طاقتوں کے زیر تسلط رہا ہے اور اب اسے اندازہ نہیں ہے کہ ازاد اور خودمختار ملک عالمی برادری میں اپنا مقام کیسے بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک ابن الوقتی، خوشامد اور مطلب پرستی سے دنیا میں باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ افغان صدر کے یہ الفاظ کہ پاکستان افغانستان کو مدد دینے کی بجائے یہ رقم دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کیلئے استعمال کرے، انتہائی قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لاکھوں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی اور پھر دہشت گردی اور بد امنی کا اکھاڑہ بن گئے مگر ہم نے افغانستان کو برادر ملک ہونے کے ناطے کبھی مورد الزام نہ ٹھہرایا اور اس کے اچھے برے وقت میں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے رہے



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…