جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی راحیل شریف کے نقش قدم پر آتے ساتھ ہی کن لوگوں کی سزائے موت کا حکم جاری کر دیا؟

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

راولپنڈی(آئی این پی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ، یہ تما م دہشتگرد بے گناہ شہریوں کے قتل عام ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق کر دی ۔

سزائے موت پانے والے دہشت گرد معصوم شہریوں کے قتل ، دہشت گردی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی، سی

آئی ڈی بلڈنگ کراچی ، سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قافلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرکے دہشت گردی کی کاروائیاں کیں ۔ دہشت گرد ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم سمیت

58افراد کے قتل میں ملوث تھے اس کے علاوہ انہوں نے ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226دیگر افراد کو زخمی کیا ۔دہشت گردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ۔ان مجرموں کو فوجی عدالتوں میں پیش

کیا گیا ۔دہشت گردوں کو جرائم ثابت ہونے پر ملٹری کورٹس کی طرف سے سزائیں سنائی گئیں ۔سزایافتہ دہشت گردوں میں عطا الرحمان ولد فقیر محمد ،محمد صابر ولد الف گل اور محمد فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق شامل

ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے اور وہ معصوم شہریوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں ، آئی ایس آئی کے حکام اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں میں ملوث تھے ۔ان حملوں میں ایس ایس پی چوہدری محمد

اسلم سمیت 58افراد جاں بحق ہوئے ۔دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ان مجرموں نے مجسٹریٹ اور کورٹ میں پیش ہونے سے قبل اپنے جرم کا

اعتراف کیا جس پر انہیں موت کی سزا سنائی گئی ۔گل زرین ولد گل شریف کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا جو پولیس حکام پر حملوں میں ملوث تھا ان حملوں میں پولیس کانسٹیبل سرتاج ، پولیس کانسٹیبل احمد خان جاں بحق

جبکہ ایس ایس پی فاروق اعوان 10دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ ملزم کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ۔ مجرم مجسٹریٹ عدالت سے پیشی سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…