بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

رکن پی ٹی آئی مراد سعید نے آئن سٹائن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

datetime 5  مارچ‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کے بی ایس امتحان میں تحریک انصاف کے شعلہ بیان رکن قومی اسمبلی مراد سعید کا انوکھا امتحان۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کے بی ایس امتحان میں تین پرچوں میں فیل پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے سیاسی و اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے پلک جھپکنے میں پیپر دے کر آدھے گھنٹے میں ڈی ایم سی حاصل کر لی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مراد سعید پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انوائرمینٹل سائنسز بی ایس کے طالب علم تھے لیکن بی ایس سمسٹر چھ اور سات کے تین پرچوں انٹروڈکشن ٹو انوائرمینٹل سائنسز‘ ریموٹ سینسنگ اور اکالوجی میں فیل ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نے یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے کی چیئرپرسن شاہدہ ذاکر پر دباﺅ ڈالا جس پر انتظامیہ نے پچھلے دنوں رکن قومی اسمبلی کے ان تین پرچوں کا امتحان لیا اور شعبہ کے ڈاکٹرنصیف نے انٹروڈکشن ٹو انوائرمینٹل سائنسز کا پرچہ چیک کر کے پاس کر دیا اوراسی طرح شعبہ کے لیکچرر زاہد نے ریموٹ سینسنگ اورڈاکٹر سردار نے اکالوجی پیپر ایک دن میں چیک کر کے پاس کر دیا جبکہ شعبہ امتحانات سے ڈی ایم سی اور ڈگری بھی اسی حاصل کر لی۔ ذرائع نے بتایا کہ جب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے شعبہ کے اساتذہ کو فوری طور پر امتحان لینے اور پاس کرنے کی ہدایت ملی تو انتظامیہ نے انوئرمینٹل سائنسز کے سینئر پروفیسر اور یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمشن ڈاکٹر حزب اللہ اور کوآرڈینیٹر ڈاکٹربشریٰ کو بائے پاس کر کے جونیئر اساتذہ کو یہ فرائص سرانجام دینے کےلئے چھوڑ دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس امر پر شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کی ڈاکٹر بشریٰ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا موقف تھا کہ وہ اس قسم کے ناجائز کام کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے سمسٹررولز کے مطابق اگر کوئی طالب علم سمسٹر سسٹم کے پیپرز میں فیل ہو جائے تو وہ ایک سال کے اندر پیپرز دینے کا مجاز ہے لیکن رکن قومی اسمبلی نے چار سال کے وقفے کے بعد امتحان دے کر خود کو پاس کروا لیا۔ ذرائع کے مطابق رکن قومی اسمبلی پشاور یونیورسٹی کے نیو ہاسٹل بی بلاک کے کمرہ نمبر 199 میں رہائش پذیر تھا۔ یونیورسٹی پرووسٹ کے مطابق موصوف پر کئی سالوں کی ہاسٹل کے کمرے کی فیس بھی واجب الادا ہے۔ اس ضمن میں جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رسول جان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں علم ہوا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور فوری طور پر شعبہ امتحانات کے کنٹرولر کو ہدایت کی کہ وہ رکن قومی اسمبلی کو ڈگری جاری نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار عملے کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…