ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں عمارت سے گر کر ایک شخص جاں بحق ۔ ۔شناخت کیا گیا تو ایسی شخصیت نکلی کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئیں

datetime 4  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(آئی این پی )کراچی کے علاقے بہادرآباد میں معروف کرنسی ڈیلر جاوید خانانی زیر تعمیر عمارت کی آٹھویں منز ل سے گر کر جاں بحق ہوگئے ،پولیس نے عمارت سے 2مزدوروں کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ۔اتوار کو کراچی میں پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ بہادرآبادکے علاقے میں واقع محمد علی سوسائٹی میں ایک زیر تعمیر عمارت سے گر کر ایک شخص جاں بحق ہو گیاہے جس کے بعد پولیس نے لاش شناخت معلوم کی تو پتہ چلا کہ یہ معرو ف کرنسی ڈیلر ہیں اور انہوں نے عمارت کی 8ویں منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی ۔ جاوید خانانی کیخلاف ایف آئی اے میں منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش بھی چل رہی تھی ۔پولیس کا کہناہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی کا لگتاہے ہے لیکن تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گا ۔
جاوید خانانی کے خاندان ذرائع کا کہناہے کہ وہ ایک دو روز سے کافی پریشان نظر آر ہے تھے ،اور جس عمارت سے انہوں نے خودکشی کی ہے وہ ان کی اپنی ہی ملکیت تھی ۔جاوید خانانی نے دوپہر ڈیڑھ بجے چھلانگ لگائی جس کے بعد ان کی لا ش کو لیاقت نیشنل ہسپتال لایا گیا جہاں پر دو بجے ان کی شناخت ہوئی اور ان کے اہل خانہ ڈیڈ باڈی لے گئے۔پولیس نے زیر تعمیر عمارت سے 2مزدوروں کو گرفتار کرلیا ہے جن سے تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔واضح رہے کہ جاوید خانانی کے بھائی الطاف خانانی نے گزشتہ ماہ امریکی عدالت میں منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔الطاف خانانی کو 20 سال تک قید اور 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانے کا سامنا ہے جبکہ استغاثہ کے ساتھ ان کا اعتراف جرم کا سمجھوتہ 27 اکتوبر 2016 کو طے پایا تھا۔الطاف خانانی کو گزشتہ برس ستمبر میں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے گئے (اسٹنگ) خفیہ آپریشن کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں۔الطاف خانانی کو فلوریڈا کے جنوبی ڈسٹرکٹ کی عدالت کی جانب سے جون 2015 میں منی لانڈرنگ کے 14 الزامات میں فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد پاناما سے گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…