جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

میرے دو حقیر ترین غلام تمہارے اعلیٰ ترین حاکم ہیں

datetime 3  دسمبر‬‮  2016 |

حضرت لقمان علیہ ا لسلام اگرچہ غلام آزاد تھے لیکن ان کا آقا ان کو پسند کرتا تھا اور ان سے محبت کرتا تھا ۔ کسی بادشاہ نے ایک بزرگ سے کہا کہ جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔ بزرگ نے جواب دیا کہ بادشاہ تم نے کیسی بات کی ہے۔ میں تم سے کیا مانگ سکتا ہوں کیونکہ میرے دو حقیر ترین غلام تیرے اعلیٰ ترین حاکم ہیں۔ بادشاہ نے متجس انداز میں دریافت کیا کہ وہ کون سے تمہارے غلام ہیں جو میرے آقا ہیں۔ بزرگ نے جواب دیا غصہ اور شہوت۔ حضرت لقمان علیہ السلام حقیقت میں آقا تھے لیکن انہوں نے بظاہر غلامی اختیارکر رکھی تھی۔ جب حضرت لقمان علیہ السلام کے آقا ان کی اصلیت پا لی تب وہ ان کا غلام بن گیا اور ان کا جھوٹا کھانے میں راحت محسوس کرتا تھا۔

ایک مرتبہ کہیں سے خربوزے تحفے کے طور پر آئے۔ آقا نے لقمان علیہ السلام کو بلوایا اور اپنے ہاتھ سے خربوزے کاٹ کر انہیں کھلاتا رہا۔ وہ رغبت سے کھا رہے تھے اور آقا خربوزے کاٹ کر انہیں پیش کر رہا تھا۔ اس طرح حضرت لقمان علیہ السلام خربوزوں کی سترہ قاشیں نوش فرما گئے اور ایک قاش باقی بچ گئی ۔ وہ قاش آقا نے بذات خود کھا لی، لیکن اس کے منہ میں کڑاوہٹ کھل گئی اور اس کڑاوہٹ نے اسے بے چین کر دیا۔ جب کڑاوہٹ زائل ہوئی تب اس نے حضرت لقمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ نے کڑوے خربوزے بڑی رغبت کے ساتھ کھا لئے۔ ان کے کھانے سے انکار کیوں نہ کردیا۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا کہ انکار کرتے ہوئے مجھے شرم آتی تھی۔ تمہارے ہاتھ سے میں لذیذ کھانا کھاتا رہا ہوں اور اگر کڑوے خربوزوں پر احتجاج کرتا تب یہ بات میرے لئے باعث شرم تھی۔ تمہارے ہاتھوں کی محبت کی چاشنی خربوزوں کی کڑاوہٹ پر غالب تھی۔ محبت کڑوی چیزوں میں بھی مٹھاس بھر دیتی ہے۔ کانٹوں کو پھول بنا دیتی ہے۔ آگ کو گلزار بنا دیتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…