ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

قطری شہزادے کے خط سے شکوک وشبہات ختم ، یقین ہوگیا کہ دال میں کچھ کالا ہے،سینئرسیاسی رہنماکادھماکہ خیزانٹرویو

datetime 1  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(آئی این پی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم حکومت پر دباؤ اس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے نہیں ڈال رہے اور نہ ہی ہمارے د ما دم مست قلندر کا مطلب یہ ہے کہ حکومت چلی جائے گی،وزیراعظم کی کرسی صرف پاکستان کے لئے ہے ، طاقت کے بل بوتے پر اسمبلی میں کوئی بل پاس نہیں کرایا جا سکتا،قطری شہزادے کے خط سے شکوک وشبہات ختم ہو گئے ہیں اوراس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے،نوازشریف خارجہ پالیسی کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں،وزیر خارجہ بننے کا فائدہ ہمیں نہیں ملک کو ہوگا،ہمسایہ ملک تشدد پر اتر آیا مگر ہم آواز اٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں،ہمارے پاس وزیر خارجہ ہی نہیں توآواز کیسے اٹھائیں، ہم سیاسی لوگ ہیں ، ٹمپریچر ہائی نہیں کرتے،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے اور ہم عوام پر یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے،عوام پر قرضوں اور ٹیکسوں کے ناقابل برداشت بوجھ لادنے کے بعد حکومت اب براہ راست عوام کی جیبیں بھی خالی کرنا چاہتی ہے۔

وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے تین مطالبات مان رہی ہے تو چوتھا قبول کیوں نہیں کرتی ،ہم حکومت پر دباؤ اس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے نہیں ڈال رہے اور نہ ہی ہمارے د ما دم مست قلندر کا مطلب یہ ہے کہ حکومت چلی جائے گی،وزیراعظم کی کرسی صرف پاکستان کے لئے ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر اسمبلی میں کوئی بل پاس نہیں کرایا جا سکتا،قطری شہزادے کے خط سے شکوک وشبہات ختم ہو گئے ہیں اوراس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے ،بلاول بھٹو ، عمران خان سے زیادہ بہتر سیاستدان ہیں ،بلاول کو پارٹی امور سے متعلق مشورہ دیتا ہوں ، یہ اس کی خصوصیت ہے کہ وہ ہر معاملے پر مشورہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی سموتھ ٹرانزیشن کا سہرا پیپلزپارٹی کے سر ہے،ہم انکوائری بل 2016سینٹ سے پاس نہیں ہونے دیں گے ،نوازشریف کہتے ہیں ہم نوے کی سیاست کرتے ہیں ہاں

انہوں نے ٹھیک کہا ہے کیونکہ ہمارے دورے اقتدار میں نوازشریف میمو گیٹ سکینڈل اور ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرانے کے لئے خود کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے ۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عابد شیر علی بے چارہ فیصل آباد کا بچہ ہے ،عمران خان نے بل نہ مانتے ہوئے لاک ڈاؤن کیا،عمران خان کی پارٹی نے تحریکیں نہیں دیکھیں ہمیں پتا ہے کہ پانامہ معاملے کو کس طرح چلانا ہے ، عمران خان کی سیاست صرف وزیراعظم بننے کے لئے اس کی پالیسیوں نے نوازشریف کو مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی نے پارلیمنٹ کو بنتے اور ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے اورپیپلزپارٹی نے چار سخت ترین مارشلاؤں کا مقابلہ کیا ہے ،لاشیں اٹھائیں ہیں ، جیلیں کاٹی ہیں اور ماریں کھائی ہیں ہمیں پارلیمنٹ کی قدر کا پتا ہے ، تحریک انصاف والوں کو پارلیمنٹ کی قدر نہیں ہے ۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اکانومی میں بہتری ادھار کے پیسوں سے ہو رہی ہے،حکومت کے یہ دعوے کہ مالیاتی ریزرو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں ایک بھونڈا مذاق لگتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ حکومت اب غریب سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیوی ٹیکس جگا ٹیکس ہے اور حکومت نے عوام کو 30ارب روپے کا ٹیکا لگا دیا، عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگا کر حکومت چلاتی جا رہی ہے ۔ میاں صاحب عوام دوست نہیں نہیں عوام دشمن ہیں ، سول گورنمنٹ کو عسکری قیادت کے ساتھ مناسب طریقے اور آئین وقانون کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت زبانی دعووں میں تو عوام کو بجلی، صحت ، تعلیم اور زرعی خوشحالی دے چکی ہے مگر عملاََ عوام اس دور حکومت میں ہر شعبہ زندگی میں محرومی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک پر جس رفتار سے قرضوں کا اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ لادا جا رہا ہے اس کا انجام خطرناک ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت مصنوعی اعداد و شمار سے عوام کو دھوکہ نہ دے اور انہیں حقیقی ریلیف مہیا کرے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے جا اور ظالمانہ اضافہ فوری واپس لے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے ابھی تک ان کی وطن واپسی سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…