ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کیا کوئی بھائی اپنی بہن کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے ؟ پاکستان کے اہم علاقے میں بھائی کا بہن کے ساتھ ایسا اقدام کہ پڑھ کر آپ کو بھی غصہ آجائے گا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

مظفرآباد ( آن لائن) شرافت کا لبادہ اختیارات کا ناجائز استعمال بھائی نے بہن کو گزشتہ 30سال سے جائیداد سے محرو م کردیا جبکہ بھابھی نے رہی سہی کثر پوری کردی محکمہ مال کے کاغذاتوں میں ہیرا پھیری کرکے مردہ قرار دے کر بہن کو بھائی سے جد اکردیا ،بہن کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ ایک کوٹلہ کے نواحی علاقے پینٹھ کے رہائشی سید قاسم شاہ گیلانی مرحوم کے دو بیٹے حاجی رحیم شاہ گیلانی اور ذیتون بی بی تھے جبکہ ان کی فوتگی کے بعد سید قاسم شاہ گیلانی کی وصیت کے مطابق جائیداد میں سے آدھا حصہ بیٹی زیتون بی بی کو دینے کی وصیت کی تھی جبکہ حاجی رحیم شاہ گیلانی جو بیرون ملک مسقط میں کاروبار کے سلسلہ میں رہتے تھے جبکہ زیتون بی بی کے بھابھی نے اپنے رشتہ داروں کی ملی بھگت سے محکمہ مال کے کاغذات کے اندر رد بدل کرنند کا نام نکلوا کر اس کو مردہ قرار کر دیا گیا
جبکہ گزشتہ 30سے زائد سالوں میں زیتون بی بی زندہ ہیں جبکہ ان کے خاوند کراچی ٹریفک حادثہ میں فوت ہوگئے تھے جس کے بعد زیتون بی بی اپنے بیٹوں کے پاس کمسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ والد مرحوم قاسم شاہ گیلانی کی جانب سے لاکھوں روپے کی جائیداد سے بھی محروم کردیا ہے جبکہ زیتون بی بی شدید علالت کے باوجو دکمسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب بھا بھی نے بھی ان کے لئے دروازے بند کردئیے ہیں جبکہ بھابھی کے رشتہ دار حکومتی اعلیٰ عہدوں پر فرائض ہیں جس کے باعث زیتون بی بی کو انصاف ملنا آسمان سے تار ے توڑنے کے برابر ہے وزیر اعظم آزادکشمیر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے اور 30سالوں سے مردہ قرار دئیے جانے اور مظلو م بہن کا حق مارنے کا نوٹس لیں اور ان کی مدد کریں جبکہ متاثرہ زیتون بی بی کا کہنا ہے کہ نہ مجھے بھائی پوچھتا ہے اور نہ ہی بھابھی جبکہ باقی رشتہ داروں نے ناتے توڑ رکھیں ہیں میں زندہ ہوں جبکہ کاغذات کے اندر جو مردہ قرار دیا گیا ہے وہ غلط اور بے بنیاد ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…