بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا مکمل کنٹرول کس نے سنبھال لیا؟

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی چینج آف کمانڈ کی باضابطہ تقریب جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ہوئی۔جہاں جنرل راشد محمود نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کو کمانڈ سونپی۔تقریب میں تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جنرل زبیر محمود حیات مسلح افواج کے بطور سی جے سی ایس سی17ویں سربراہ ہوں گے۔اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔کمانڈ کی تبدیلی کے موقع پر تینوں مسلح افواج کے دستوں نے مارچ پاسٹ بھی کیا۔جنرل زبیر حیات کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہے اور وہ حاضر سروس چیف آف جنرل اسٹاف ہیں، تھری اسٹار جنرل کی حیثیت سے ماضی میں وہ اسٹریٹجک پلانز ڈویڑن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں جو کہ این سی اے کا سیکریٹریٹ ہے۔
جنرل زبیر نے 24 اکتوبر 1980 میں آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ فورٹ سل اوکلوہوما (امریکا)، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کیمبرلے (برطانیہ) اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔اس کے علاوہ وہ بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، لہٰذا وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے عہدے کے لیے آئیڈیل انتخاب ہیں، جس کے پاس جوہری فورسز اور اثاثوں کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…