ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں سنگین بحران کا خدشہ ۔۔۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ۔۔۔ ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی) ملک میں ایندھن کے ذخائر کم ازکم سطح سے بھی نیچے آ گئے ہیں ،جس کے بعد ایندھن کا ذخیرہ 2 ہفتے سے بھی کم دنوں کا رہ گیا ہے،وزارت دفاع نے پیٹرولیم مصنوعات کے کم ہوتے ذخائر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں ایندھن کے ذخائر کم ازکم سطح سے نیچے آ گئے ہیں اور زرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد پورے ملک میں ایندھن کے ذخائر دو ہفتے سے بھی کم دنوں کے رہ گئے ہیں جب کہ اوگرا کا کہنا ہے کہ قواعد کے مطابق ایندھن کا ذخیرہ 21دن کا ہونا چاہیے۔ڈی جی اوگرا آئل کمپنیوں کے پاس 21 دن کا ذخیرہ یقینی بنانے کے پابند ہیں لیکن وہ اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے جب کہ پٹرول کی کوالٹی تبدیل ہونے کی وجہ سے بھی اسٹریٹیجک ذخائر میں فرق پڑا۔دوسری جانب ماہرین کے مطابق سرحدی کشیدگی کے باعث اضافی ایندھن کی موجودگی ناگزیر ہے کیونکہ حالات مزید سنگین ہونے کی صورت میں صورت حال تشویش ناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں تاہم اسٹریٹیجک ذخائر بیس دن تک کے لئے موجود نہیں ہیں، قانون کے تحت او ایم سیز کے پاس ہر وقت پیٹرولیم مصنوعات کے بیس دن کے ذخائر موجود ہونا ضروری ہے۔دوسری جانب وزارت دفاع نے پیٹرولیم مصنوعات کے کم ہوتے ذخائر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔زرائع کے مطابق پی ایس او نے ان خبروں کی تردید کی ہے، سستی پیٹرولیم مصنوعات کے باعث ان کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے ذخائر میں کمی کی وجہ طلب کی زیادتی اور پورٹ پر رش کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے جہازوں کا وقت پر خالی نہ ہونا ہے۔پورٹ پر رش کے باعث پہلے بھی ایل این جی کے جہازوں کو مسائل ہوئے تھے۔دوسری جانب موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ملک میں تیل کا ذخیرہ دگنا کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کو سٹور کرنے کے لئے حکومت نے نجی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت بھی دے دی ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچنے کے لئے سٹوریج کپیسٹی کو بڑھایا جاتا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…