بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پاکستان سمیت 4اسلامی ممالک کا شاندار کام ۔۔۔ حلال اور حرام کی پہچان اب نہایت آسان ۔۔۔ کس طرح ؟ جان کر آپ بھی داد دیں گے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی ) پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی نے مقامی و در آمداتی اشیا ئے خور دو نوش میں استعمال ہونے والے اجزاء کے ای کوڈز یا آئی این ایس، انٹرنیشنل نمبرنگ سسٹم کے تجزیہ پر مشتمل 205صفحات کارہنمائی کتابچہ شائع کر دیا ہے جس میں تمام اشیا کے کوڈز کی تفصیل دی گئی ہے کہ وہ شرعی نقطہ نظر سے حلال، حرام یا مشبوہ (مشکوک )ہے۔ واضح رہے ای کوڈز کسی چیز کی پیکنگ یا ریپر پر دیے گئے ان نمبرزکو کہتے ہیں جو جگہ کی قلت کے باعث اجزا کا پورا نام لکھنے کی بجائے صرف نمبر ز لکھ دیے جاتے ہیں، پاکستانی قانون کے مطابق تمام اشیا خورد نوش پر اجزائے ترکیبی، ای کوڈز یا آئی این ایس کوڈ لکھنا ضروری ہے۔E-Codes analysis کے لئے ایک سال قبل پنجاب حلال ایجنسی نے چار ممالک کے حلال سیکٹر کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں تھائی لینڈ کے ڈاکٹر وینائی ڈھلن، ملیشیا کے عبد الرحمٰن یوسفی، پاکستان سے جسٹس خلیل الرحمٰن اور ڈاکٹر فقیر انجم اور انڈونیشیا سے حلال سیکٹر کے ماہرین شامل تھے۔ اس کمیٹی نے Codes کا تجزیہ کیا وہ کن اجزا کے لئے استعمال ہوتے ہیں اس عمل میں نامور مذہبی سکالرز سے رہنمائی بھی لی گئی۔کوڈز کی آن لائن تصدیق کے لئے http://phda.com.pk/index.php/e-code-traceability/ لینک پر جا کر کسی بھی چیز کی پیکنگ یا ریپر پر دیئے گئے اجزائے ترکیبی کے ای کوڈزکو سرچ مینیو میں لکھیں اور فوری طور پر اس کا نتیجہ سامنے آ جائے گا جس سے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ یہ چیز حلال، حرام یا مشبوہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ کتاب حلال ایجنسی کے دفتر واقع شاہین کمپلیکس سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیرمین جسٹس خلیل الرحمٰن خان نے کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا کھانا پینا، رہنا اور زندگی کے دیگر امور شریعت کے مطابق ہونے چاہئیں مگر آ ج کے جدید دورمیں عوام کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جو چیز کھا رہے ہیں اس کے اجزائے ترکیبی حلال ہیں یا حرام لہذا اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حلال ایجنسی نے ای کوڈز کے تجزیہ پر مشتمل کتا ب شائع کی ہے جو مختلف اشیا کے پروڈیوسرز اور عام صارف کے لئے نہایت مفید ثابت ہو گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…