ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

قطری شہزادے کے خط اور نواز شریف کے بیانات میں کھلا تضاد ہے!!! سارا معاملہ بدل کر رکھ دیا گیا ہے

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما لیکس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ شریف خاندان کی جانب سے لندن میں خریدی جانے والی جائیداد کی ایک نئی وضاحت سامنے آنے پر زیادہ خوش نہیں جبکہ عدالت کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ فریقین اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ عدالت عظمیٰ بالآخر پاناما گیٹ کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے کمیشن قائم کردے۔سماعت کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ کی جانب سے سابق قطری وزیر اعظم کا تصدیق شدہ خط پیش کیے جانے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ’اس دستاویز نے وزیر اعظم کے عوام کے سامنے دیے گئے موقف کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے‘۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ کے رکن جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ’یہ تو سب سنی سنائی باتیں ہیں‘۔جیسے ٹوپی میں سے خرگوش نکالا جاتا ہے ویسے ہی اکرم شیخ نے ایک دستاویز نکالی جس پر 5 نومبر 2016 کی تاریخ درج ہے، نجی اور بصیغہ راز کا لیبل لگا ہوا ہے جبکہ یہ بھی لکھا ہے کہ اسے کسی بھی فریق کے سامنے افشاء نہ کیا جائے ماسوائے پاکستانی عدلیہ کے فائدے کے لیے، یہ خط حماد بن جاسم بن جابر الثانی کے لیٹر ہیڈ پر لکھا ہوا ہے جنہوں نے 2007 سے 2013 تک قطر میں حکمرانی کی۔تاہم عدالت اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوئی، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ یہ دستاویز محض چند دنوں پہلے کی ہے نہ کہ 30 سال پرانی، ساتھ ہی انہوں نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ وہ شخصیت جنہوں نے اس دستاویز پر دستخط کیے ہیں اگر انہیں جرح کے لیے عدالت طلب کرے تو کیا وہ پیش ہوں گے؟اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو اس سوال کا جواب نہیں دیا تاہم میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق قطری وزیر اعظم اگر ضرورت پڑی تو عدالت میں بھی پیش ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…