اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

ملازمین کی نجی زندگی میں مداخلت ،نیاقانون منظوری کےلئے پیش ،تفصیلات منظرعام پرآگئیں 

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ملازمین کوذہنی طورپرپرسکون رکھنے کےلئے ایک نیا قانون کی منظوری کےلئے پیش کیاگیاہے ۔ ۔تفصیلات کے مطابق فرانس کی قومی اسمبلی میں ایک نیا قانون منظوری کے لئے پیش کیاگیاہے جس کے مطابق ایسی کوئی بھی کمپنی جس کے 50 یا زیادہ ملازم ہوں وہ ملازمت کے اوقات ختم ہونے کے بعد اپنے ملازمین سے رابطہ نہ کرنے اور ان کی نجی زندگی میں خلل نہ ڈالنے کی پابند ہوگی۔

فرانسیسی قومی اسمبلی کے رُکن اور اس قانون کے حامی بینوئٹ ہامون کا کہنا ہے کہ متعدد نفسیاتی اور معاشرتی مطالعوں سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جب اوقاتِ ملازمت کے بعد کمپنی ذمہ داران اپنے ملازمین سے رابطہ کرکے انہیں کاموں کی یاد دلاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی نجی زندگی میں دخل اندازی ہوتی ہے بلکہ ملازمین کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی شدید منفی اثرات پڑتے ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو ملازمین ڈپریشن سمیت کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں، انہیں جسمانی امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں جب کہ ان کی نجی زندگی بھی (فرصت کے اوقات میں کام کی فکر اور بے آرامی کے باعث) تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں اس بات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اوقاتِ ملازمت کے بعد لوگ اپنی نجی زندگی سے لطف اندوز ہوں، اپنے بیوی بچوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ بھرپور وقت گزاریں تاکہ تازہ دم ہوکر کام پر واپس آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کمپنیاں اپنے ملازمین کو سال میں 30 عمومی چھٹیاں جب کہ اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے 16 اضافی چھٹیاں سالانہ دیتی ہیں لیکن کمپنی ذمہ داران و مالکان میں اوقاتِ کار کے بعد (یا چھٹیوں کے دنوں میں) ملازمین کو فون یا ای میل کرکے کام کی یاد دلانے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے ملازمین کی نجی زندگی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے۔ اس تناظر میں یہ قانون خوش آئند قرار دیا جارہا ہے اور امید ہے کہ بہت جلد منظور ہوکر نافذالعمل بھی ہوجائے گا اوراس قانو ن پرفرانس کے کئی حلقوں نے خوشی کااظہارکیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…