اسلام آباد(ایکسکلوژو رپورٹ) نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر سیاستدان شیخ رشید احمد خاتون اینکر پر برہم ہو گئے۔ تفصیل کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاتون اینکر نے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد سے سوال کیا کہ عمران خان تو اس بات سے انکار کرتے آئے ہیں کہ جو مذہبی جماعتیں ہیں یا وہ جماعتیں جن کے بارے میں کالعدم ہونے کا کہا جاتا ہے انہیں دھرنے میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تو کیا ان جماعتوں کو آپ نے دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے؟ آپ اس ضمن میں سرگرم عمل بھی ہیں۔ شیخ رشید نے خاتون اینکر کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے بالکل بھی دعوت نہیں دی سمیع الحق صاحب کو۔ میں نے کبھی انہیں انوائٹ نہیں کیا ۔ یہ سب عمران خان کا فیصلہ ہے۔ اگر عمران خان چاہے کہ دفاع پاکستان کونسل اس میں شامل ہو تو وہ ایک شارٹ نوٹس پر ہو سکتی ہے لیکن عمران خان نے بھی کہا ہے کہ نہیں، انہیں شامل نہیں کرنا۔ شیخ رشید نے خاتون اینکر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار مجھے یہ کہہ رہی ہیں کہ ان لوگوں کو میں نے دعوت دی ہے۔ میں نے آپ کو انٹرویو کیا دے دیا، آپ تو مجھے گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
میں نے انٹرویو کیا دے دیا آپ تو مجھے گھیرنے کی کوشش کر رہی ہو!! شیخ رشید خاتون اینکر پر برہم ہوگئے‘ خاتون اینکر نے کیا سوال کیا تھا؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پنجاب بھر میں سکولوں بارےاہم نوٹیفکیشن جاری
-
چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے
-
مسلم لیگ (ن)کو ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی دھچکے کا سامنا
-
پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان
-
شدید سردی کی لہر؛سکولوں میں مزید چھٹیوں سے متعلق حکومت کا اہم بیان
-
شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل، وجہ کیا بنی؟
-
موسم کا نیا سسٹم داخل، شدید سردی، بارش اور برفباری کی پیش گوئی
-
اقرار الحسن کی سیاسی جماعت کا نام اور پارٹی پرچم سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
-
ملک بھر میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کر دی گئی
-
سعودی عرب کے غاروں میں قدرتی طور پر حنوط شدہ چیتوں کی پہلی دریافت
-
مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ ،دو سگے بھائی قتل
-
سٹیو سمتھ نے آخری گیند پر سنگل نہ لے کر بابر اعظم کو ناراض کرنے کی وجہ بتا دی
-
حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو ریلیف ملنے کا امکان















































