ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ کے بعد پشاور میں بھی دھماکہ ، اہلکار شہید ،متعدد زخمی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے صوبہ خیبر پختوانخو اکے سب سے بڑے شہر پشاور کے علاقے دادو زئی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جا ں بحق اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دو دیسی ساختہ بم پولیو ٹیم کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیے گئے تھے۔پولیس کے مطابق پہلے دھماکے کی زد میں پولیو ورکرز کی ٹیم آئی جبکہ دوسرا دھماکا اس وقت ہوا جب بم ڈسپوزل اسکواڈ اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔واضح رہے کہ پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم جاری ہے جبکہ 2016 میں پولیو کے کیسز میں 62 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردوں کے حملے میں 59اہلکار شہید جبکہ 116زخمی ہوگئے ،فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ 2نے خود کو دھماکے سے اڑادیا،سیکورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 250ریکروٹس کوبحفاظت نکال لیا۔تفصیلات کے مطابق پیر کی رات کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹرینگ سینٹر پر اچانک دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی اور ہاسٹلز پر قبضہ کرکے سینکڑوں زیر تربیت ریکروٹس کو یرغمال بنالیاواقعہ کی اطلاع ملتے پاک فوج ، فرنٹیر کور ،اینٹی ٹیررارسٹ فورس اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر پورے علاقے کو قبضے میں لیکر پولیس ٹریننگ سینٹرمیں موجود دہشت گردوں کیخلاف سرچ آپریشن شروع کردیا گیا پاک فوج کے کمانڈوز کی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک ہوگیا جبکہ فورسز نے 250سے زائد زیر تربیت ریکروٹس کو بحفاظت باہر نکال لیا اسی دوران ہاسٹلز میں موجود 2دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑدیا فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں 59زیر تربیت پولیس اہلکار شہید جبکہ 116زخمی ہوگئے زخمیوں میں ایف سی اور پاک فوج کے بھی اہلکار شامل ہیں ،جن میں سے 8 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے زخمیوں کو نعشوں کو فوری طورپر سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ۔پولیس حکام نے بتایا کہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں 3مسلح افراد داخل ہوئے اور انہوں نے مورچے سنبھال کر فائرنگ کی آپریشن کے دوران ہاسٹل میں تین دستی بم کے دھماکوں سمیت 5 دھماکے سنے گئے۔ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے ایک حملہ آور کو مار گرایا جبکہ دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کے بعد کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی جبکہ صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ اورسیکرٹری صحت نور الحق بلوچ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کی نگرانی کرتے رہے۔ واقعہ کے بعد شہر میں خوف وہراس پھیل گیا اور فضاء سوگوار رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…