بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پرانے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )پرانے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا، پرانے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا، یکم دسمبر 2016ء سے تمام پرانے ڈیزائن کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم دسمبر 2016ء سے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی، 10، 50، 100 اور 1000 روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا، 5 روپے کے نوٹ اور پرانے ڈیزائن کے 500 روپے کے نوٹ کی قانونی حیثیت پہلے ہی ختم کی جاچکی ہے۔بینک دولت پاکستان نے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ کی سیریز کا 2005ء4 میں 20 روپے مالیت کے بینک نوٹ کے اجراء سے آغاز کیا تھا، جس کا مقصد بینک نوٹوں کی سیکیورٹی، پائیداری اور جمالیاتی معیار میں بہتری لانا تھا، 8 مختلف مالیتوں پر مشتمل نئے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کی مکمل سیریز (5 روپے، 10 روپے، 20 روپے، 50 روپے، 500 روپے، 1000 روپے اور 5000 روپے) کے اجراء کا عمل 2008ء میں مکمل ہوا تھا۔کمرشل اور مائیکروفنانس بینک 30 نومبر 2016ء4 تک 10، 50، 100 اور 1000 روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کی وصولی اور ان تمام مالیتوں کا اتنی ہی مالیت کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹوں اور سکوں سے تبادلہ جاری رکھیں گے تاہم ایس بی پی، بی ایس سی کے فیلڈ دفاتر 31 دسمبر 2021ء4 تک عوام سے 10، 50، 100 اور 1000 روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹ قبول کرتے رہیں گے۔
جبکہ دوسری جانب حکومت نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کا نیا منصوبہ بنالیا، قدرتی گیس کے بعد درآمدی گیس کے بھی نرخ بڑھا دیئے گئے، ایل این جی 23 روپے ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کردی گئی۔حکومت نے عوام پر ایک اور مہنگائی بم گرادیا، قدرتی گیس کے بعد درآمدی گیس کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے، ایل این جی 23 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کردی، اضافہ بجلی، زرعی اور صنعتی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق اوگرا نے فیصلے کی کاپی پی ایس او، سوئی نادرن اور سدرن کو ارسال کردی، ایل این جی کی قیمت 8.43 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردی گئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…