ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ،نئے آرمی چیف کی تقرری،پیپلزپارٹی نے اہم مطالبہ کردیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

لاڑکانہ(این این آئی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف راحیل شریف نے اچھے جنرل ہونے کا ثبوت دیا ہے تاہم ان کی مدت ملازمت ختم ہونے پر کسی سینئر جنرل کو آرمی چیف بنایا جائے،جس ملک کا وزیر خارجہ نہیں اس ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ وزیر خارجہ مقرر نہ کرنا ہماری ناکامی ہے،ملک کے غریبوں سے جینے کا حق بھی لے لیا گیا ہے،گیس کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کسی صورت قبول نہیں کرینگے، عوام پر یہ ظلم نہیں ہونے دینگے،بانی ایم کیو ایم سمیت کسی بھی شخصیت کو محب وطن یا غدار ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے،30اکتوبر کا پی ٹی آئی کا دھرنا ان کا اپنا عمل ہے۔لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کے بانی رکن غلام محمد ماہوٹو کی وفات پر تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہی بات کی ہے کہ جس ملک کا وزیر خارجہ نہیں اس ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟، وزیر خارجہ مقرر نہ کرنا ہماری ناکامی ہے جس سے سارک کانفرنس سمیت دیگر اہم معاملات میں ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوے کئے

جاتے ہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک کے غریبوں سے جینے کا حق بھی لے لیا گیا ہے اور ان کے منہ سے دو وقت کا نوالا بھی چھینا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ موسم سرما کی آمد پر گیس کی قیمتوں میں 36 فیصد اضافہ کرنا غریب عوام پر ظلم ہے، پیپلزپارٹی گیس کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کسی صورت قبول نہیں کریگی اور عوام پر یہ ظلم نہیں ہونے دے گی۔انہوں نے کہا کہ 30 اکتوبر کو اسلام آباد کو سیل کرنے کا فیصلہ عوام کا نہیں عمران خان کا ہے،اس میں پیپلزپارٹی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم بانی ایم کیو ایم سمیت کسی بھی شخصیت کو محب وطن یا غدار ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے ،انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کو چاہتا ہے اور پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے وہ محب وطن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اربوں روپیوں کے ترقیاتی کام ہوتے ہیں جن میں سرکاری حکام کی نااہلی سامنے آتی ہے، ضروری ہے کہ ناقص چیزوں کی مانیٹرنگ کرنی چاہیے، قدیم عمارتیں اب بھی بہتر حالت میں کھڑی ہیں جبکہ 10 سال قبل تعمیر ہونیوالی عمارتیں زبوں حال ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں 90 ارب روپیوں کی ترقیاتی سکیمیں دینے کے اعداد و شمار کس نے دیئے ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جیسے بندے کو بغیر تصدیق کے یہ اعداد و شمار عدالت میں نہیں دینی چاہیے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…