ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’’نئے فتنے نے سر اٹھا لیا‘‘ پاکستان میں مصنوعی خانہ کعبہ منظر عام پر

datetime 9  اکتوبر‬‮  2016 |

’’نئے فتنے نے سر اٹھا لیا‘‘
پاکستان میں مصنوعی خانہ کعبہ منظر عام پر
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے صوبے بلوچستان میں زکری فرقہ کے بارے میں مصنوعی خانہ کعبہ کی تعمیر کا انکشاف ہوا ہے جہاں ذکری لوگ اپنے تعمیر کردہ خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں اور حج کے پورے مناسک ادا کرکے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جانے کی ضرورت نہیں۔نجی اخبار خبریں کی رپورٹ کے مطابق زکری قبیلے کے مذہبی قائد کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے درمیان امام مہدی آچکے ہیں تاہم اب وہ انتقال کرگئے ہیں لیکن کسی بھی وقت وہ پھر آسکتے ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ امام مہدی جب آئیں گے تو پھر ان کے انتقال کی خبریں درست نہیں سمجھی جاسکتیں۔ علماء کی مجموعی طور پر زکری قبیلے میں ہونے والے حج عمرے اور طواف کو ناجائز اور کفر سے تعمیر کرتے ہیں۔اس مصنوعی خانہ کعبہ کی تعمیر کی اطلاعات کے بعد لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی خانہ کعبہ لوگوں کو مناسک حج سکھانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کینیا اور تیونس میں جعلی خانہ کعبہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اس جعلی خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ خانہ کعبہ عوام کی تربیت کیلئے بنایا گیاہے تاکہ انہیں دوران حج طواف میں آسانی رہے تاہم روزنامہ خبریں کے مطابق اگرچہ یہ تربیت کے لئے ہے تاکہ حج اور عمرے پر جانے والے لوگ یہاں عملی تربیت حاصل کرسکیں لیکن تیونس میں ایک ایسا نیا طبقہ بھی پیدا ہوگیا ہے جس کے خیال میں بلڈ پریشر، شوگر یا دوسری بیماریوں میں مبتلا معمر لوگوں کے لئے سعودی عرب جانا بہت مشکل ہے یہ طبقہ جو اپنے آپ کو نیو گروپ آف مسلمز کہتا ہے اس نقطہ نظر کا حامل ہے کہ حج یہیں ادا ہونا چاہیے جبکہ مذہبی سکالرز اور ملکی علماء شدت سے اس خیال کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حج اور عمرہ صرف اور صرف سعودی عرب میں موجود حقیقی خانہ کعبہ میں جاکر ہی ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…