ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بیوی شوہر کو اپنے والدین کی دیکھ بھال یاان پر پیسے خرچ نہ کرنے دے تو ۔۔۔؟ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی(این این آئی)اگر بیوی شوہر کو اس کے بوڑھے والدین سے علیحدہ کرنے پر اصرار کرے تو شوہر اس صورت میں بیوی کو طلاق دے سکتا ہے‘عورت شوہر کے خاندان کا حصہ ہے وہ اسے والدین سے الگ نہیں کرسکتی،یہ فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ نے ایک جوڑے کی طلاق کی توثیق کرتے ہوئے دیا۔بھارتی اخبارکے مطابق شادی کے بعد بیوی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سسرال والوں کے ساتھ رہے، لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر بیو ی شوہر کو اس کے بوڑھے والدین کے ساتھ رہنے سے منع کرے یا انہیں پناہ دینے کی نیک ذمہ داری سے دور کرے تو اس ظالمانہ اقدام پر ایک ہندو بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس نیل آر دیو اورایل نگیشوارا راوی پر مشتمل دورکنی بنچ نے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ ایک عورت شوہر کے خاندان کا حصہ ہے وہ صرف اس وجہ سے بیٹے کو ان کے والدین سے الگ نہیں کرسکتی کہ وہ اپنے خاوند کی کمائی پر مکمل حق رکھے اور اپنی مرضی سے خرچ کرے۔جسٹس دیو نے فیصلے میں لکھا کہ شوہر کے والدین سے الگ رہنے کا اصرار مغربی افکار کا حصہ ہے ، ہماری ثقافت اور اقدار نہیں۔ بھارت میں ایک ہندو بیٹے کیلئے یہ طرز عمل اختیار کرنا درست نہیں اوریہ ہماری ثقافت بھی نہیں کہ وہ شادی کے بعد بیوی کے اصرار پر والدین سے علیحدہ ہوجائے اور خاص کر اس صورت میں جب وہ خاندان میں واحد کمانے والا ہو۔فیصلے میں لکھا گیا کہ بیٹے کی پرورش اور تعلیم کابوجھ والدین اٹھاتے ہیں لہذا بیٹے کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ جب والدین بوڑھے ہو جائیں اوران کے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو وہ انکی دیکھ بھال کرے اور خیال رکھے۔بھارت میں عام طور پر لوگوں مغربی طرزفکر نہیں اپناتے جہاں شادی ہو یا کسی اور وجہ سے بیٹے خاندان سے الگ ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں عام حالات میں ایک بیوی شادی کے بعد شوہر کے خاندان کے ساتھ رہنے کی امید کی جاتی ہے۔جسٹس دیو نے لکھا کہ بیوی خاوند کے خاندان کا لازمی جز بن جاتی ہے، کسی ٹھوس جواز کے بغیر وہ شوہر کو اس کے خاندان سے الگ کرکے اکیلی شوہرکے ساتھ رہنے پر اصرار نہیں کر سکتی۔عدالت نے حالیہ فیصلے میں کرناٹک کے جوڑے کی طلاق کی تصدیق کی جن کی1992میں شادی ہوئی، اس میں لوئر عدالت نے بیو ی کی طرف سے مبینہ زیادتی پر طلاق دی گئی، بیوی کی طرف سے شوہر پر نوکرانی کے ساتھ تعلقات پر شک کیا گیا ،عدالت کے سامنے یہ حقیقت آئی کہ بیوی کی طرف سے بیان کردہ کوئی بھی ملازمہ ان کے گھر میں کام نہیں کرتی تھی۔ایک اور مثال میں سپریم کورٹ کے سامنے یہ آئی کہ ایک بیوی نے خود کشی کی کوشش کی جسے عین وقت پر بچا لیا گیا، وہ اپنے سسرال سے علیحدہ رہنا چاہتی تھی جو اس کے خاوند کی کمائی پر انحصار کرتے تھے۔تاہم ہائی کورٹ نے طلاق کا حق مسترد کرتے فیصلہ دیاکہ یہ بیوی کی ’جائز توقع‘ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آمدنی کو اپنی مرضی سے استعمال میں لائے، اس پرخاندان کے دوسرے افراد کا کوئی حق نہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…