ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کراچی سے برآمد ہونے والا انتہائی بڑی تعداد میں اسلحہ کس کے حوالے کیا گیا اور کیوں ؟ جان کر آپ بھی فخر کریں گے

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز کراچی سے برآمد ہونے والی اسلحے کی انتہائی بڑی کھیپ کو پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ فوج ان کی فارنزک کر سکے، واضح رہے کہ سندھ پولیس کے پاس خطرناک اور بڑے اسلحے کی فارنزک کی سہولت نہیں ہے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں عزیزآباد کے علاقے سے برآمد ہونے والا اسلحہ پاک فوج کے سینٹرل آرڈیننس ڈپو منتقل کردیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اسلحہ ڈی آئی جی ویسٹ کے آفس سے پولیس کے2ٹرکوں اور5 موبائلوں کےذریعےمنتقل کیا گیا ۔ذرائع کےمطابق سندھ پولیس کے پاس صرف چھوٹے ہتھیاروں کے فارنزک کی سہولت ہے،جی تھری،اینٹی ایئرکرافٹ گن اورایل ایم جی کی فارنزک نہیں کرسکتی اس لئے ہتھیاروں کی ناصرف فارنزک پاک فوج سے کرائی جائےگی ۔پولیس ذرائع بتاتےہیں کہ ڈی آئی جی ویسٹ کے دفتر میں اسلحہ محفوظ نہیں، اس لئے اسے پاک فوج کے حوالے کیا جائے گا۔عزیز آباد کے ایک مکان گھر سے زیر زمین پانی کے ٹینک سے برآمد ہونےوالے اسلحے میں اینٹی ٹینک مائن،اینٹی ائیرکراف گن، ایل ایم جی، ایس ایم جی، کلاشنکوف، راکٹ، راکٹ لانچر، بزوکا، جی تھری رائفل کے ساتھ چھوٹے بڑے راکٹ، دیگر ہتھیار اور گولیاں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں اسلحے کی خریداری میں بڑے نام ملوث ہیں۔میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی مشتاق مہر نے کہا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں بڑے نام ملوث ہیں،چائنا کٹنگ اور بھتہ کوری سے حاصل رقم سے اسلحہ خریدا گیا،لندن میں مقیم عناصر نے ”را“سے مل کر 9اور10محرم کو دہشتگردی کا منصوبہ بنایا تھا، اس دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ساؤتھ افریقی گروہ بھی ملوث ہے،اسلحے میں سرکاری اور نیٹو کا اسلحہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے آج کراچی میں بھاری تعداد میں غیرقانونی اسلحہ پکڑے جانے کے بعد میڈیاسے گفتگوکرنے کے بعد کاروائی میں حصہ لینے والی ٹیم کو 10لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔مشتاق مہر نے مزید کہا کہ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ مارا گیا۔پانی کی ٹینکی سے بلٹ پروف جیکٹس بھی ملی ہیں۔ابھی تحقیقات نہیں کیں کہ اسلحہ تخریب کاری میں استعمال ہونا تھا یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ ملزم کتنے بھی بااثرکیوں ن ہوں ان کوایک دن قانون کاسامناضرورکرناپڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…