منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی اورچینی انجینئرزکاکمال1 3۔Jاسٹیلتھ جنگی طیارہ جس نے امریکہ اوربھارت کی نیندیں اڑادیں ،حیرت انگیزرپورٹ

datetime 30  ستمبر‬‮  2016 |

بیجنگ ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )دفاعی ماہرین نے کہاہے کہ چین کا اسٹیلتھ طیارہ ’’ایف سی 31 جرفالکن جوکہ اب ٹیکنالوجی میں امریکی طیارے ایف 35کے مقابلے کاکہاجاتاہے اس کے بارے میں اہم انکشاف ہواہے کہ اس جدیدترین چینی طیارے ایف سی 31فالکن کی تیاری میں پاکستانی سائنسدان اورانجینئرزبھی شامل ہیں جبکہ میڈیارپورٹس کے مطابق اگرچین نے اس کی باضابطہ فروخت کی توپاکستان اس کاپہلاخریدارہوگااورچین سے پاکستان کے اتنے گہرے دوستانہ ،معاشی اورعسکری تعلقات ہیں کہ چین پاکستان کویہ طیارہ دینے سے انکاربھی نہیں کرے گا۔بعض ذرائع کایہ کہناہے کہ اس طیارے کی پہلی دوکامیاب پروازوں میں پاکستانی انجینرزکابھی بڑاہاتھ ہے ۔ فضائی دفاعی ماہرین کے لگائے ہوئے اندازوں کواگرایک نظرمیں دیکھاجائے تویہ اندازہ کرناآسان ہے کہ ایف سی 31 جرفالکن/ جے 31 دو عدد ٹربوفین انجنوں والا، پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے جو ہیلمٹ پر نصب، اگلی نسل کے بصری آلات (نیکسٹ جنریشن ہیلمٹ ماؤنٹڈ سائٹ)، ہولوگرافک کاک پٹ ڈسپلے اور الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم (ای ٹی او ایس) سے یقینی طور پر لیس ہے۔اس کی جسامت اور ظاہری خدوخال سے پتا چلتا ہے کہ اس میں ’’شارٹ ٹیک آف اینڈ ورٹیکل لینڈنگ‘‘ (STOVL) کی صلاحیت بھی ہے۔ یعنی یہ کم فاصلہ طے کرکے اڑان بھرنے اور (ہیلی کاپٹر کی طرح) سیدھا زمین پر اُترنے کے قابل ہے۔ یہ صلاحیت اُن طیاروں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جنہیں طیارہ بردار بحری جہازوں پر رکھنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یعنی توقع کی جاسکتی ہے کہ جے 31، طیارہ بردار چینی بحری بیڑے کا حصہ بنایا جائے گاادھریورپی دفاعی ماہرین نے بھی امریکہ کےلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے کہ آخر چین نے کس طرح سے انجن اور ریڈار جیسے اہم نظام مقامی طور پر تیار کرلیے ہیں اور یہ کہ مختلف الاقسام ٹیکنالوجیز کو کس طرح سے ایک چھوٹے طیارے میں سمودیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ جے 31 منصوبے کے بارے میں دنیا کو پہلی باقاعدہ اطلاع ستمبر 2011 میں چینی حکومت کی جاری کردہ ایک تصویر سے ملی جس پر ’’F-60‘‘ کا لیبل لگا ہوا تھااور اس طیارے کی پہلی مصدقہ آزمائشی پرواز 31 اکتوبر 2012 میں ہوئی۔ امریکی دفاعی ماہرین کو جے 31 اور جے 20، دونوں سے یہ خطرہ ہے کہ اگر ان طیاروں کی ٹیکنالوجی امریکی ایف 22 ریپٹر سے کم تر درجے کی بھی ہوئی تب بھی یہ اتنی بڑی تعداد میں ہوں گے امریکی فضائیہ کے لیے ان کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت امریکا کے پاس جنگ کے لیے تیار صرف 120 عدد ریپٹر موجود ہیں۔ماہرین کایہ بھی کہناہے کہ اگرچین کے اس جدید ترین طیارے کوپاکستان کے فضائی بیڑے میں شامل کیاجائے توپھرانڈیاکے پاس اس کامقابلہ کرنے کےلئے کوئی طیارہ موجود نہیں ہے اورنہ بھارت کے امریکہ کے ساتھ اتنے گہرے تعلقا ت ہیں کہ وہ چین کامقابلہ کرنے کےلئے ایف 35طیارے اس کودے دے ۔اگرچہ بھارت اورامریکہ میں ایک دوسرے اڈے استعمال کرنے کامعاہدہ ہوچکاہے لیکن ایساکوئی معاہدہ ابھی تک نہیں ہواکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے طیارے بھی استعمال کرسکیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…