ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار ۔۔ طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2016 |

اوٹاوا (این این آئی)کینیڈا میں رائٹ کینیڈین ٹیکسال کے ملازم کو ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر مالیت کا سونا چرانے پرگرفتارکرکے عدالت میں پیش کردیاگیا،ملزم نے اعتراف جرم کرلیا،میڈیارپورٹس کے مطابق رائٹ کینیڈین ٹیکسال کے ملازم 35 سالہ لیسٹن لارنس کو ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر مالیت کا سونا چرانے کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ لیسٹن گاہے بگاہے ایک جوہری کے پاس جاکر 210 گرام سونے کا ڈھیلا فروخت کرتا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم رائل بینک میں جاکر جمع کراتا تھا۔ بینک کی ایک حاضر دماغ ملازمہ کو اس بات نے شک میں مبتلاء کر دیا کہ لیسٹن ہر بار جو رقم جمع کرواتا تھا اس کی مالیت تقریباً 210 گرام سونے کی قیمت کے برابر ہوتی تھی۔ ملازمہ کو معلوم تھا کہ رائل کینیڈین ٹیکسال میں 210 گرام وزن کے سونے کے ڈھیلے تیار کئے جاتے ہیں جنہیں بعدازاں سونے کے سکے بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب خاتون ملازمہ نے لیسٹن کی فائل کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ واقعی سرکاری ٹیکسال میں ملازم تھا۔ اس پر ملازمہ نے بینک کی انتظامیہ کو مطلع کیا جس کے بعد معاملہ پولیس کے پاس پہنچ گیا۔لیسٹن سے جب تفتیش کی گئی تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ عدالت کے سامنے ہر معاملے کی تفصیل پیش کردی گئی لیکن ایک بات ابھی بھی واضح نہیں تھی کہ وہ انتہائی سخت سکیورٹی والی عمارت سے سونے کا ڈھیلا باہر کیسے لے جاتا تھا۔ بالآخر پولیس نے عدالت کو یہ شرمناک تفصیلات بھی بتادیں۔ پولیس کے مطابق لیسٹن نے دفتر میں اپنی ٹیبل کی دراز میں ویزلین کی بوتل رکھی ہوئی تھی۔ وہ موقع ملنے پر سونے کا ایک ڈھیلا چراتا اور ویزلین کی بوتل لے کر بیت الخلاء میں چلا جاتا، جہاں ویزلین کی مدد سے ڈھیلے کو اپنے جسم کے زیریں حصے میں داخل کرتا۔ بعدازاں وہ ہر قسم کی تلاشی کے باوجود سونے کا ڈھیلا لے کر نکل جاتا کیونکہ یہ اس کے جسم کے اندر ہوتا تھا۔ گھر پہنچ کر وہ اسے اپنے جسم سے خارج کرتا اور بعدازاں جوہری کے پاس بیچ کر رقم بینک میں جمع کروادیتا۔ لیسٹن نے اس بیہودہ تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اچھی خاصی رقم جمع کرلی تھی البتہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ باقاعدگی سے سونا چرارہا تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسے گرفتار نہ کرلیا جاتا تو وہ عنقریب ملک سے فرار ہونے والا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…