بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک کو پوری دنیا میں گیم چینجر کے طور پر کیوں دیکھاجا رہا ہے؟پاکستان کواس کے کیاکیافوائد ہونگے ؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی اکانومی کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، پاک چائنا اقتصادی راہداری کی شکل میں ہونے والی 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے جو ملک میں پائیدار امن کے قیام اور سیاسی استحکام سے مشروط ہے، اپنی آئندہ نسلوں کو ایک اور ترقی یافتہ ماحول کی منتقلی کہ لیے ہم سب کو ملکر امن دشمن عناصر کو شکست دینی ہے اور ملک میں اس انویسٹمینٹ کو یقینی بنانا ہے ۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے امن کے عالمی دن کے موقع پر اپنا پیغام ریکارڈ کراتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کو پوری دنیا میں گیم چینجر کے طور پر دیکھاجا رہا ہے ۔ اس کے بعد پاکستان کاشمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہونے لگے گا۔ جس کا فائدہ کسی ایک صوبے یا جماعت کو نہیں ہو گا بلکہ پورے پاکستان کو ہو گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے انفرادی ختلافات اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف پاکستان کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انتہا پسندی، دہشت گردی،فرقہ واریت اور عدم برداشت کے رویوں کو شکست دے سکیں۔اس ضمن میں حکومت پنجاب نیشنل ایکشن پلان کے تحت بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے جسمیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا قیام ، پولیس ،انٹیلی جینس ،جیل خانہ جات اور فارنزک کے شعبہ میں لائی جانے والی اصلاحات،کرایہ داری ایکٹ ،وال چاکنگ ،اسلحہ ایکٹ،ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور پبلک آرڈر ایکٹ میں ضروری ترامیم،انسداد دہشت گردی فورس کا قیام، دہشت گردی میں استعمال ہونے والے ویب لنکس کی بندش، مدارس،مساجد اور این جی اوز اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی جیو ٹیکنگ شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…