جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر ۔۔ عاصمہ جہانگیرنے کھری کھری سنادیں

datetime 16  ستمبر‬‮  2016 |

لندن (این این آئی) انسانی حقوق کی سرگرم رکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی سول سوساٹیزنے مشترکہ طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بربریت ہو رہی ہے وہ یکطرفہ اور بلا جواز ہے۔بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ اس بات پر بھی متفق ہے کہ کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج میں کسی دوسرے ملک کی شدت پسندی کا ہاتھ نہیں ۔بلوچستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اتنی تشویش ناک نہیں جتنی مقبوضہ کشمیر میں ہے۔انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ’شوٹ ٹو کل‘ یعنی دیکھتے ہی گولی مار دینے کی پالیسی جاری ہے ٗ بلوچستان میں ایسا نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نوعیت اور ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے ٗ کشمیر کی نوعیت بالکل مختلف ہے اور کشمیر کے تمام حصے متنازع ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرنے والے کارکنوں کو مشترکہ طور پر اس بات پر زور دینا ہوگا کہ کشمیر سے فوجوں کا انخلاء ہو۔کشمیر کے علاوہ انھوں نے کہا کہ سیاچین سے فوجیوں کو بھی واپس بلانا چاہیے ٗسیاچین میں فوجیوں کی تعینات غیر انسانی اور غیر منطقی ہے۔کشمیر کے مسئلہ پر ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دونوں حکومتوں کا بھی مسئلہ ہے اور بجائے اس کے دونوں ملکوں کے لوگوں کو دور کیا جائے دونوں ملکوں کو قریب لا کر اس مسئلہ کا حل نکالنا ہو گا۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے کے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں سے مسلسل رابطے میں ہیں یہ ان کا روز مرہ کا کام ہے ۔انھوں نے کہا کہ ان رابطوں کا اثر بھی سامنے آیا ہے۔بھارت کی سول سوسائٹی سے متعلق ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ بھارتی سول سوسائٹی کشمیر کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہے اور ان کا ردعمل بہت حوصلہ افزا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…