جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

’’اب یہ کام اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا‘‘ ’دیرینہ مسئلہ حل‘وفاقی وزیر نے شاندار اعلان کر دیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی نمو 4 سے بڑھ کر 5 فیصد کے قریب ہے، 2018 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7 فیصد تک پہنچ جائے گی، کاش میرے پاس جادو کی چھڑی ہوتی اور میں فوری طور پر سودی نظام کا خاتمہ کردیتا کیونکہ اسلامی مالیاتی نظام میں دین اور دنیا دونوں کا فائدہ ہے لہذا پورے مالیاتی اور معاشی نظام کو چند سال میں اسلامی اصولوں کے مطابق بنانا ہے۔کراچی میں منعقدہ ورلڈ اسلامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسلامی معاشی نظام غربت کے خاتمے انصاف اور دولت کے یکساں تقسیم پر مشتمل ہے جس کے نفاذ کے لیے مختلف مسائل دور کرنے کی ضرورت ہے لہذا اسلامی بینکاری کے لیے تیز رفتاری کے ساتھ درست سمت میں کام کرنا ہوگا۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی نے گزشتہ دو سال میں نمایاں کام کیا اور مالیاتی شعبے کے ماہرین کی مدد سے پاکستان کو اسلامی سکوک بینکنگ میں شامل کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر خزانہ بنتے ہی اسلامی بینکاری کے لئے قائمہ کمیٹی تشکیل دی، وزیراعظم اور میری خواہش تھی کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری ترقی کرے۔ اسلامی بینکاری کے لئے 3 ایکسیلینس سینٹر قائم کئے جاچکے ہیں اور اب اسلامی معاشی نظام کو ملک بھرمیں پھیلایا جائے گا۔ اسلامی بینکاری غربت کا خاتمہ، سماجی انصاف اور دولت کی منصافہ تقسیم کا نظام فراہم کرے گا جب کہ حکومت اسلامی مالیاتی نظام کی ترقی کے لئے کام کررہی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی نمو 4 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد کے قریب آئی ہے اور 2018 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کاش میرے پاس جادو کی چھڑی ہوتی اور میں فوری طور پر سودی نظام کا خاتمہ کردیتا کیونکہ اسلامی مالیاتی نظام میں دین اور دنیا دونوں کا فائدہ ہے لہذا پورے مالیاتی اور معاشی نظام کو چند سال میں اسلامی اصولوں کے مطابق بنانا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی پاکستان سے غداری کی اس کا بھیانک انجام ہوا ہے، جن لوگوں نے مشرقی پاکستان توڑا ان کا اور ان کی اولادوں کا انجام بھی عبرتناک ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…