لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے کہا ہے کہ استعفیٰ نہیں احتساب مانگ رہے ہیں ، ترقی روکنا چاہتے ہیں اور نہ ہی جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،راستوں کو بند کرنے سے ثابت ہو گیا کہ حکومت کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا کہ پانامہ لیکس میں نام آنے کے بعد حکمران جس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں وہ ان کے کسی کام نہیں آئیں گی ۔ پانامہ لیکس میں نام آنے کے بعد شریف خاندان خود کو احتساب کیلئے پیش کر دے او ریہ پوری قوم کا مطالبہ ہے ۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت کی جنگ ہے اور عوام خود یہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ باقی ڈیڑھ سال بھی نکال لیں گے اصل میں میاں صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے 1992-94ء میں بیرون ملک جائیدادیں بنائیں میں نے دو دہائیاں نکال لی ہیں باقی وقت بھی نکال لوں گا لیکن انہیں بتانا چاہتے ہیں یہ اب ان کی خام خیالی ہے ، عوام نے اس ملک سے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور تحریک انصاف کی جدوجہد کے آنے والے دنوں میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
استعفیٰ نہیں مانگ رہے ،تحریک انصاف کی قلابازی،نیا موقف سامنے آگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے



















































