منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

’’پاکستان میں ترقی کی زبردست لہر‘‘ ایک ساتھ کئی اہم منصوبوں کا افتتاح

datetime 1  ستمبر‬‮  2016 |

گوادر (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے گوادر فری زون منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ڈیم ، یونیورسٹی اور پاک چین سکول سمیت مختلف منصوبوں کا افتتاح کر دیا ۔ جمعرات کو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گوادر کا دورہ کیا وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے دورہ گوادر کے موقع پر فری زون ، بزنس سروس کمپلیکس اور یونیورسٹی آف گوادر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس دوران وزیراعظم نے چین پاکستان پرائمری اسکول،ساور کور ڈیم اور شادی کور ڈیم کا افتتاح کردیا ہے، اس موقع پر مختلف منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں گورنر محمد خان اچکزئی ٗوزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ٗ وفاقی وزراء عبدالقادر بلوچ،احسن اقبال اوروزیرمملکت میر حاصل بزنجو ،مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ،چین کے سفیر سن وی ڈونگ اور دیگر حکام شریک ہوئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت شپنگ اینڈ پورٹس میر حاصل بزنجو نے کہاکہ گوادر میں منصوبوں کا افتتاح تاریخی اہمیت کا حامل ہے، سی پیک اصل میں بلوچستان کیلئے بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے۔انہوں نے کہاکہ گوادر سی پیک ہے اور سی پیک گوادر ہے ٗبلوچستان کے لوگوں کو ترقی چاہئے ٗبلوچستان کیعوام کو سی پیک چاہئے،وہ اس منصوبے میں آن بورڈ ہیں ٗاگر کوئی کہتا ہے کہ ہمیں سی پیک نہیں چاہئے تو اس کی نیت میں فتور ہوسکتاہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مکران سمیت بلوچستان کے لوگوں کو سی پیک میں شریک رکھناچاہئے اور گوادر کیلئے10 ارب روپے کا پیکیج اعلان کیاجاناچاہئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر سن وی ڈونگ نے کہاکہ گوادر پورٹ چین اور پاکستان دوستی کی علامت ہے، گوادر پورٹ سی پیک کاایک اہم منصوبہ ہے، گوادر پورٹ کی ہینڈلنگ استعداد میں بہتری آئی ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ گوادرفری زون پاکستان کی ترقی میں اہمیت کا حامل ہوگا،انہوں نے کہاکہ ہم گوادر کے شہریوں کو تعلیمی وظائف بھی دینے جارہے ہیں، مقامی بچوں کو چینی زبان سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…