منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

اسرائیل مسجد اقصیٰ کے ارد گرد کیا خطرناک منصوبہ تیار کر رہا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کیلئے جس ریل کار منصوبے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں اس کے نقشے کے مطابق ریل مسجداقصیٰ کے ارد گرد چلائی جائیگی اور اس کا ٹریک مسجد اقصیٰ کے جنوب میں واقع سلوان ٹاؤن کے قلب سے گزریگا۔ اپنی ہئیت ترکیبی کے اعتبار سے ریل کار کا یہ منصوبہ قبلہ اول کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بعض مجوزہ اسٹیشن مسجد اقصیٰ سے متصل مقامات پر بنائے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کے میئر نیر برکات نے کہا ہے کہ ’ریل کار‘ کے سابق ٹریک کے نقشے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے ٹریک میں سلوان ٹاؤن اور مسجد اقصیٰ کے قریب کئی نئے اسٹیشن بھی بنائے جائینگے۔ اس ضمن میں سلوان کے بالائی حصے اور زیریں دونوں کو ملایا جائیگا۔یہودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم اہلیان القدس کو ٹریفک کی بہتر،آرام دہ اور جدید سہولیات سے آراستہ سہولت مہیا کرنا چاہتے ہیں۔منصوبے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ریل کار مسجد اقصیٰ کی مشرقی اور جنوبی سمت سے گزریگی جو آگے بڑھ کر سلوان ٹاؤن کے قلب تک جائیگی۔
سلوان کے وسط میں اس ریل کار کے چار اسٹیشن قائم کیے جائینگے۔ اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے باہر ایک اسٹیشن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ وادی حلوہ سے محض 20 میٹر کے فاصلے پر ایک اسٹیشن بھی بنایا جائیگا۔ جہاں سے براہ راست یہودی مسجد اقصیٰ تک پہنچ سکیں گے۔ پرانے بیت المقدس کی تاریخی دیوار سے ریل کار کا ٹریک 100 میٹر کے فاصلے سے گذریگا جو آگے بڑھتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی مشرقی سمت، باب رحم، جبل زیتون اور سات ستارہ ہوٹل تک پہنچے گا۔اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کو ریل کار کے ذریعے قبلہ اول کے جنوب میں واقع سلوان ٹاؤن، جبل زیتون، القدس کے پرانے داخلی راستے باب الاسباط ، باب الرحمہ اور یہودیوں کے داؤن ٹاؤن کو باہم مربوط کرنا ہے۔ اس طرح سلوان اور جبل زیتون سے یہودی ہوائی ریل یا ’’ریل کار‘‘ کی مدد سے براہ راست مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے تک پہنچ سکیں گے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ’ریل کار‘ کا منصوبہ بیت المقدس میں یہودیوں کو قبلہ تک رسائی فراہم کرنے کے جاری 19 منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ 19منصوبے ’القدس ویژن2020ء‘ کے اسرائیلی پروگرام کا حصہ ہیں جس کے تحت بیت المقدس کو ’’عظیم تر یروشلم‘‘ بنانے کے لیے شہر میں بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کا جال بچھانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…