جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

تحفظ ناموس رسالتؐ قانون کو چھیڑاگیا تو ۔۔۔! اہم جماعت نے نتائج سے خبردارکردیا

datetime 22  اگست‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہاہے کہ سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے حقوق انسانی کے اجلاس میں توہین رسالتؐ قانون پر عملدرآمد کے طریقے میں تبدیلی کے حوالے سے سفارشات کاتذکرہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت امرہے،توہین رسالتؐ قانون کوچھیڑاگیا توبھر پورانداز میں اس کی مخالفت کر یں گے،یہ عالمی دباؤ میں آکرملک کے اسلامی تشخص کو برباد کرنے کے مترادف ہے،تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے طریقہ کار کوتبدیل کرنے کی سازش کامقصد درحقیقت تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ناموس رسالتؐ کے قانون پر آنچ نہیں آنے دے گی۔بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان اور محبت رسولؐ کاتقاضا ہے کہ ہم اس سازش کوناکام بنانے کے لیے اقدامات کریں۔کچھ لادینی قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان میں ناموس رسالتؐ قانون عملاً غیر فعال ہوجائے ۔دریں اثنامیاں مقصوداحمد نے سندھ کابینہ کی جانب سے علماء کرام کی مشاورت کے بغیردینی مدارس کی دوبارہ رجسٹریشن کے فیصلے پراپنے شدیدردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ایک مخصوص لابی دینی مدارس اورعلماء کرام کے خلاف سرگرم ہے۔ان کے مذموم عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدارس جوکہ اسلام کے قلعے ہیں ان کوٹارگٹ کیا جارہاہے۔دینی مدارس سے تربیت یافتہ افراد نے ہمیشہ ملک وقوم کی خدمت کی ہے۔جب کبھی بھی ملک وقوم پر کڑاوقت آیا علماء کرام اور بلاامتیاز تمام مدارس اور ان میں پڑھنے والے لاکھوں طالب علموں نے محب وطن اور محب اسلام ہونے کاثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکمران مدارس کو نشانہ بناکر دین دشمن قوتوں کے لیے سہولت کارکاکرداراداکررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دہشت گردی کو دینی مدارس سے جوڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اس قانون کے مطابق مساجد ومدارس کی رجسٹریشن اور ان کی فنڈنگ کانیانظام وضع کیا جائے گا۔نئے قانون کے تحت سوسائٹیزایکٹ1860کے تحت رجسٹرڈمدارس کی رجسٹریشن کالعدم قرارپائے گی۔نئی رجسٹریشن محکمہ داخلہ اور صوبائی وزارت مذہبی امور کے سپرد کردی گئی ہے۔ایسے فیصلوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ آئے روزنئے قانون بناکر مدارس کے طلبہ پر دینی تعلیم کاحصول مشکل بنادیا گیا ہے۔حکومت نے جونئی قانون سازی کرنی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء کرام کو اعتماد میں لیا جائے۔پاکستان کی آزادی سے لے کر اس کی تعمیر وترقی تک علماء کرام اور دینی مدارس کا کلیدی کردار رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا مگر آج 69برس گزر جانے کے باجود اس میں شرعی قوانین کانفاذ نہیں ہوسکا۔ہم نے انگریزوں سے تو نجات حاصل کرلی مگر ان کے قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔اب انگریزوں کے غلام حکمرانوں سے نجات کا وقت آگیا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…