اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جنرل راحیل شریف کی مدت ملا زمت میں تو سیع اچانک ایسی خبر آگئی سب پر یشان ہو گئے

datetime 22  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن)آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت پوری ہونے میں 100 دن باقی رہ گئے مگر ان کی ملازمت میں توسیع دینے یا نہ دینے کے حوالے سے چہ مگوئیاں میں اضافہ ہو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے میں صرف سو دن باقی رہ گئے،15ویں آرمی چیف کی حیثیت سے ان کا تقرر 29نومبر2013ء سے ہوا ہے، جوں جوں ان کی مدت ملازمت پوری ہونے کا دن قریب آ رہا ہے چہ میگوئیاں بھی اسی حساب سے بڑھ رہی ہیں، عوام کے ذہنوں میں اس وقت 2 ہی سوال ہیں کہ آیا جنرل راحیل شریف کو اب بھی توسیع دی جا سکتی ہے اور یہ کہ عمران خان کی تحریک احتساب و طاہرالقادری کی تحریک قصاص کی وجہ سے نوازشریف حکومت بھی اپنی مدت پوری کر سکے گی یا نہیں۔
اگست کے پہلے 15 دنوں تک تو یہ تھیوری زیر بحث رہی کہ آرمی چیف کے عہدہ کی مدت ہی تین سال سے کرکے4سال کی جا رہی ہے تاکہ جنرل راحیل کو خودبخود ایک سال کے لئے مزید توسیع مل جائے تاہم کے مطابق وزیراعظم نوازشریف ایسی کسی تجویز سے متفق نہیں اور نہ ہی وہ شہبازشریف یا چودھری نثار کے چاہنے کے باوجود آرمی چیف کو توسیع دینے کے حق میں ہیں۔سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل، کراچی آپریشن جاری رکھنے اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لئے جنرل راحیل شریف کا موجودہ عہدہ پر برقرار رہنا ضروری ہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پاکستان موومنٹ نے اسلام آباد سمیت دیگر بڑھ شہروں بینرز لگائے تھے جس کے بعد ملکی سیاسی دوجہ حرارت بڑھ گیا تھا سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے بھی ”سیاسی عزائم“ نہ رکھنے والے آرمی چیف کا برقرار رہنا ضروری ہے تاکہ سیاسی درجہ حرارت بڑھ نہ سکے اور عام انتخابات2018 ء میں ہی منعقد ہوں۔آنے والے دو سے تین ہفتوں تک عوام کو اپنے سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں اور صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…