بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کاشکریہ۔۔ 1965کی پاک بھارت جنگ کے دوران استنبول میں کیا ہواتھا؟ترک پارلیمنٹ کے سپیکر کاحیرت انگیز انکشاف

datetime 19  اگست‬‮  2016 |

انقرہ(آئی این پی) ترکی کی پارلیمنٹ کے سپیکر اسماعیل کارامان نے کہا ہے کہ ترک پارلیمنٹ پاکستان کی پارلیمنٹ کی حمایت اور اظہار یکجہتی کو کبھی نہیں بھول سکتی ،پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ترکی کی جمہوریت کی حمایت کیلئے دو متفقہ قرار دادیں منظور کیں ، دونوں ملک ایک خاندان کی طرح ہیں، 1965کی پاک بھارت کی جنگ کے دوران استنبول میں ایک طالب علم رہنما نے پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا تھا۔گزشتہ روز پاکستان کے کل جماعتی پارلیمانی وفد جو سینیٹر مشاہد حسین سید کی قیادت میں ترکی کی پارلیمنٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ترکی کے دورے پر ہے نے ترکی کی پارلیمنٹ کے سپیکر اسماعیل کارامان سے ملاقات کی ۔ پاکستانی وفد کے استقبال کیلئے جونہی ترکی کے سپیکر کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور پاکستانی وفد کے قائد سینیٹر مشاہد حسین سید کو گلے لگا لیا ۔ترکی کے سپیکر نے پاکستانی پارلیمنٹرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ترکی کی پارلیمنٹ پاکستان کی پارلیمنٹ کی حمایت اور اظہار یکجہتی کو کبھی نہیں بھول سکتی پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ترکی کی جمہوریت کی حمایت کیلئے دو متفقہ قرار دادیں منظور کیں انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ایک خاندان کی طرح ہیں انہوں نے کہا کہ 1965کی پاک بھارت کی جنگ کے دوران استنبول میں ایک طالب علم رہنما نے پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا تھا اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے ترکی کی پارلیمنٹ کے ساتھ پاکستانی پارلیمنٹ کے یکجہتی کے اظہار کے طور پر ایک لوح پیش کی جس میں ترکی میں 15جولائی کی بغاوت کے خلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی کی منظور کردہ متفقہ قرار دادوں کا متن درج ہے ۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ ترکی کی پارلیمنٹ کو فوجی بغاوت کے دوران فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد کرنے پر ان کی ہمت اور عزم کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں جس میں سپیکر نے ایف16طیاروں کی بمباری کے باوجود عمارت چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ بعد ازں پاکستانی پارلیمنٹرین کے وفد کو ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی مہمان کی گیلری میں لے جایا گیا جہاں پر ترکی کے سپیکر نے پاکستانی وفد کی آمد کا اعلان کیا تو ترکش پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا ۔پاکستانی وفد نے اس جگہ کا بھی دورہ کیا جہاں 15جولائی کی شب ایف 16طیاروں نے تین بم گرائے تھے پاکستانی وفد نے ان جگہوں پر جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے احترام میں گلدستے رکھے ان حملوں میں تین سو سے زائد افراد مارے گئے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…