اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف مشکل میں۔۔!وزیر اعظم یہ کام نہیں کر سکتے!! سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 18  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم کے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے وزیراعظم کی جانب سے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار رولز 16 کی شق 2 کو کالعدم قرار دے دیا۔جمعرات کے روزعدالت عظمیٰ کے جسٹس ثاقب نثار نے لیوی ٹیکس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کیخلاف اپیلوں پر 80 صفحات پر مشتمل محفوظ تفصیلی فیصلہ سنایا۔ لیوی ٹیکس کو نجی کمپنیوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس میں اضافہ یا کمی کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے جو وزیراعظم اور وزراء4 پر مشتمل ہوتی ہے ، صرف وزیراعظم کی منظوری سے اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکتا۔ وفاقی حکومت کے رولز میں ضابطہ 16 کی شق 2 کے تحت کا اختیار غیر قانونی ہے ، کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی ہے ، کوئی بھی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ فنانس بل سمیت تمام قوانین پر غور کیلئے کابینہ کو مناسب وقت ملنا چاہیئے۔ وزیراعظم ، وزیر یا سیکرٹری وفاقی حکومت کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کے پابند ہیں اور وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کو بائی پاس نہیں کر سکتے، وفاقی حکومت کا اختیار صرف وفاقی کابینہ استعمال کر سکتی ہے، وزیراعظم کو مالی معاملات ،بجٹ اختیارات ، صوابدیدی اختیارات کابینہ کی منظوری سے استعمال کرنا ہوں گے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیکرٹری یا وزیر وفاقی حکومت کا اختیار استعمال نہیں کرسکتے، کابینہ کو فنانس بل سمیت ہر قسم کی قانون سازی سے قبل جائزے کے لئے مناسب وقت دیا جائے اور آئندہ کوئی بل یا آرڈنینس کابینہ سے منظوری کے بغیر جاری نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم کابینہ کو بائی پاس نہیں کرسکتے۔ ہر قسم کی قانون سازی کے لیے کابینہ کو وقت چاہیے ، کوئی بھی قانون یا بل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔1973کے رولز آف بزنس کی پابندی حکومت پر لازم ہے ، نہ سیکرٹری ، نہ وزیراعظم نہ وفاقی وزیراپنے طور پر حکومت ہے ، وفاقی حکومت ،وفاقی وزرااور وزیراعظم پر مشتمل ہوتی ہے ،مالی معاملات ، بجٹ اخراجات حکومت کے صوابدیدی اخراجات وفاقی حکومت کرتی ہے۔وزیراعظم تنہا یہ اختیاراستعمال نہیں کرسکتے ، لیوی ٹیکس کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے ، کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا، کوئی بھی آرڈیننس غیر قانونی ہوگا۔فنانس بل ، آرڈیننس یا قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے کابینہ کی منظوری لازم ہے،وزیراعظم اپنے طور پر ایسا کوئی قانون منظورکریگا تو وہ کالعدم ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…