کوئٹہ(آئی این پی) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات تھے، سانحہ کوئٹہ کے بعد ایک اور دھماکہ انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے،ایجنسیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ایجنسیوں کے آپس میں رابطے مربوط بنانے کی ذمہ داری وزرات داخلہ کی ہے،نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں وزرات داخلہ مکمل طور پر ناکام ہوگئی جس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے،پلان پر عمل کیا جائے تو یہ حادثات و واقعات رک سکتے ہیں،وزرات داخلہ سوچے وہ ان واقعات پر شرمسار ہے یا نہیں۔وہ جمعرات کو سانحہ کوئٹہ پرہسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے،میڈیا گفتگو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات تھے مگر نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا،آج پھر کوئٹہ میں دھماکہ ہوگیا جو ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزرات داخلہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے،ایجنسیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے آپس میں رابطے مربوط بنانے میں وزرات داخلہ ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے آئے روز دھماکے ہورہے ہیں اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہاہے۔سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ زخمیوں کے علاج کی ذمہ داری سندھ حکومت نے لی ،شہیدوں کے بچوں کی تعلیم کیلئے بھی ٹرسٹ بنانے کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ ان کے تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے تک اخراجات کا بندوبست ہوسکے۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چند روز پہلے اتنے بڑے سانحہ کے بعد ایک بار پھر کوئٹہ میں دھماکا سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے،نیشنل ایکشن پلان پر بالکل عمل نہیں کیا گیا،یہ دھماکہ وزرات داخلہ کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ اس پر ان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ان واقعات پر شرمندہ بھی ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو دہشتگردی رک سکتی تھی۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا،وزرات داخلہ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے بیانات سے حکومت کمزورہورہی ہے مگر ہمیں خوف یہ ہے کہ حکومت کمزور ہوگئی تو ملک کمزور ہوجائے گا،وزیرداخلہ نے گذشتہ روز جان بوجھ کر اسمبلی میں تنازع کھڑا کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے لمبے لمبے اجلاس ہورہے ہیں مگر نتیجہ کچھ حاصل نہیں ہورہا اور دہشتگردی کے واقعات ویسے ہی جاری ہیں یہ تو ایسی ہی بندر والی بھاگ دوڑ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہورہا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیرداخلہ نے کوئٹہ سانحہ پر یہاں آنے کی بھی زحمت نہیں کی وہ ڈرا ہوا ہے کہ لوگ میرے خلاف نعرے لگائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ کے رویے پر لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کے پیچھے نواز شریف تو نہیں ہے،یہ میاں صاحب کی آستین کا سانپ ہیں جو انہیں ڈس رہے ہیں مگر انکو احساس نہیں ہورہا۔خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ حکو مت نے کوئٹہ دھماکے کے زخمیوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔
سا نحہ کو ئٹہ کے بعد ایک اور دھما کہ کیو ں ہوا ؟ اعتزاز احسن حقیقت سامنے لے آگئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا



















































