منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب مکان اینٹوں سے نہیں بنیں گے بلکہ ۔۔۔! مستقبل کی ایک شاندار جھلک

datetime 10  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں ہرسال مون سون کی شدید بارشوں سے مکانات ڈھے جاتے ہیں اور جانی نقصان کی وجہ بنتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں پلاسٹک کی اینٹوں سے بنے مکانات زیادہ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوسکتے ہیں۔ بھٹے کی اینٹوں یا سیمنٹ بلاک کے مقابے میں نرم پلاسٹک سے بنی اینٹیں نہ صرف تیز بارش جھیل سکتی ہیں بلکہ 6 ٹن کا دباؤ برداشت کرکے بھی ٹوٹ پھوٹ کی شکار نہیں ہوتیں۔ اس لحاظ سے یہ تعمیرات میں ایک انقلاب پربا کرسکتی ہیں۔ اس کے برخلاف بھٹے اور سیمنٹ کی اینٹیں مون سون میں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ ہے کی سرخ اینٹیں اور بلاک پانی جذب کرتے ہیں اور یوں ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہوتے رہتے ہیں۔
ٹیکنکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے انجینیئر لائی فیوگلسینگ ویسٹرگارڈ نے 2013 میں تین ماہ بھارت میں گزارے اورمغربی بنگال میں پلاسٹک کچرے کا جائزہ لے کر پولی تھین بیگز سے اینٹیں بنانے کا ارادہ کیا جو بھارت میں سب سیزیادہ استعمال ہوکر پلاسٹک کچرے کے ڈھیر کی وجہ بن رہے ہیں۔ اس کچرے کے نمونے وہ ڈنمارک لے گئیں جہاں تجربہ گاہوں میں اسے پگھلایا۔ عام اوون میں انہوں نے اینٹوں کے سانچے تیار کئے اور پلاسٹک کی ایسی اینٹیں بنائیں جن میں تھیلیوں کی مقدار 60 فیصد تھی۔ چونکہ بھارت میں ہرجگہ بجلی موجود نہیں اس لیے انہوں نے پلاسٹک کو سورج کی تپش سے پگھلانے اور اینٹ بنانے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے جس کا اہم کام بھارت میں کیا جائے گا۔
ویسٹرگارڈ کی بنائی ہوئی اینٹیں ہلکی پھلکی مگر بہت مضبوط ہیں اور ان سے چھوٹے مکانات تعمیر کئے جاسکتے ہیں۔ کم آمدنی والے افراد اسے باآسانی استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ اس کی تعمیر میں کچرا اور سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے۔ غریب اور کم آمدنی والے بھی اپنے گھروں کو دوسروں کی طرح مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور اسطرح کی اینٹیں بہت اچھی ثابت ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب ویسٹرگارڈ کہتی ہیں کہ پلاسٹک کو مزید دبا کر اس سے روڈ اور سڑکیں بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ملائیشیا اور الجزائر کے ماہرین بھی پلاسٹک اور ٹھوس فضلے سے اینٹیں بناچکے ہیں۔ پاکستان میں یواین ڈی پی کے تحت اسمال گرانٹس پروگرام کے تحت شہر کے ٹھوس فضلے ( سالڈ ویسٹ) سے ماحول دوست اینٹیں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جو سیلابی خطرے کے شکار علاقوں میں مکانات تعمیر کئے جاسکتے ہیں۔ یہ اینٹیں ایک جانب تو شہر کا ٹھوس فضلہ کم کرسکتے ہیں تو دوسری جانب ان سے کم خرچ مکانات بنائے جاسکتے ہیں :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…