استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے اکثر بادشاہوں کے بارے میں سن رکھا ہوگالیکن آج ہم آپ کو جس حکمران کے بارے میں بتائیں گے اس کی باتیں جان کر آپ شدید حیران ہوں گے اور سوچیں گے کہ کیا کوئی حکمران بھی ایسا ہوسکتا ہے۔یہ سلطان سلطنت عثمانیہ کا حکمران ابراہیم تھا جو کہ 9فروری1640کو اپنے بھائی مراد چہارم کے بعد 25سال کی عمر میں خلافت پر فائز ہوا۔
اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پیدائش کے بعد ایک ایسی جگہ قید رہا جہاں کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ شروع ہی سے ذہنی مریض بن چکا تھا۔سلطنت سنبھالتے ہی اس نے ایسے کام کئے کہ اسے ایک پاگل بھی کہا جانے لگا۔ جب ابراہیم دو سال کا تھا تو اس کے والد کا انتقال ہوگیا اور اسے شاہی محل میں اس طرح رکھا گیا جیسے وہ کوئی قیدی ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔اس کے بھائی مرادچہارم نے اپنے بھائیو ں کو بے دردی سے قتل کیا جس کی وجہ سے ابراہیم کے سر پر موت کا خوف رہنے لگا لیکن وہ خوش قسمت رہا اور ایسی موت سے بچ نکلنے کے بعد وہ سلطان بن گیا۔خلافت پر بیٹھنے کے بعد بھی وہ ذہنی مسائل کا شکار رہا اور عجیب حرکتیں بھی کرتا رہا جس میں اپنے نومولود بیٹے کو تالاب میں پھینکنا اور اپنے ایک اور بیٹے کے چہرے پر خنجروں کے وار شامل ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلطان ابراہیم نے اپنے حرم میں موجود ایک عورت کی بے وفائی پر حرم میں موجود تمام 280خواتین کو باسفورس میں غرق کردیا تھا جس کے بعد سلطان ابراہیم کے خلاف شیخ الاسلام نے بھی بغاوت کا اعلان کردیا تھاجو کہ اس کی حکومت کے خاتمے پر منتنج ہوا۔یہ سلطان صرف 8سال حکومت میں رہا اور 8اگست 1648 کو اسے سلطنت سے بے دخل کرکے قید میں ڈال دیا گیا اور صرف10روز بعد اسے مار دیا گیا۔



















































