بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اربوں کی اراضی، کرنسی نوٹ چھاپنے والی سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے بارے میں ایسا فیصلہ کرلیاگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 8  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے کرنسی نوٹ چھاپنے والے قومی راز داری کے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی نجکاری کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے ،کرنسی نوٹ اور پرائز بانڈز بنانے کا اختیار اسٹیٹ بینک کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ امور کی سرانجام دہی کیلئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)میں کمپنی رجسٹرد کرکے جس کی بعد ازاں قیمتی اراضی سمیت نجکاری کردی جائے گی۔دس سے پانچ ہزارروپے کے نوٹ چھاپنے والے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کوپہلے مرحلے میں دوالگ حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق کرنسی نوٹس ،بینک نوٹس اور پرائز بانڈزبنانے کا اختیارات اسٹیٹ بینک کو دیا جائے گاجبکہ نوٹس ،پرائز بانڈز کے علاوہ تمام سکیورٹی پرنٹنگ کے اختیارات کیلئے وزارت خزانہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ایک کمپنی رجسٹرڈ کریگی جس کے سو فیصد شیئرز حکومتی ملکیت رہیں گے۔ پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی کراچی ایئر پورٹ کے قریب اربوں روپے مالیت کی 176ایکڑ اراضی مجوزہ کمپنی کی ملکیت ہوجائے گی۔سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے کرنسی اور پرائز بانڈز بنانے کا اختیار اسٹیٹ بینک کو دینے سے متعلق کئی خفیہ اجلاس کئے گئے مگر حیران کن طور پر سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے کسی انتظامی آفیسر کو اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن سالانہ ساٹھ سے ستر کروڑ روپے کا منافع دیتا ہے ،کارپوریشن کرنسی نوٹ اور پرائز بانڈز سمیت پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،نشان حیدر ، بورڈ ،یونیورسٹیوں کی ڈگریاں، پاکستان آرمی ، نیوی کے کارڈز نان جوڈیشل پیپر اور سیونگ سرٹی فیکٹ بناتا ہے۔کام کے نوعیت کے حوالے سے انتہائی حساس اور قومی راز داری کے ادارے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی سیکورٹی کیلئے چار سو حاضر سروس آرمی تعینات ہے



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…