بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر اعظم کے بعد وزیر اعلیٰ کا نمبر، تحریک انصاف نے 7سوال آگے رکھ دئے

datetime 31  جولائی  2016 |

لاہور (آئی این پی ) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے صحت اور ہسپتالوں سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب سے سات سوالوں کا جواب مانگ لیا، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اگر خادم اعلیٰ صحت کے شعبے کیلئے بجٹ میں مختص رقم کافی سمجھتے ہیں تو بتائیں دل کے ہسپتال سمیت متعدد سرکاری ہسپتالوں میں ایک ایک بستر پر دو دو مریض کیوں ہیں؟ مریضوں کو ویل چیئر پر طبی امداد دی جا رہی ہے کیا وزیراعلیٰ عام شہری کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرا سکتے ہیں؟ اپنے دوسرے سوال میں میاں محمود الر شید نے کہا کہ کیا میو ہسپتال جہاں ایمرجنسی میں روزانہ2ہزار مریض آتے ہیں وہاں ایم آر آئی مشین کی ضرورت نہیں؟ تیسرے سوال میں پوچھا گیا کہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کے بعد بھی وینٹی لیٹر ز کی مطلوبہ مقدار کیوں نہیں پوری کی گئی اور چلڈرن ہسپتال میں بچوں کی اموات کی تحقیقاتی رپورٹ کیوں سامنے نہیں لائی گئی؟ چوتھے سوال میں وزیراعلیٰ سے پوچھا گیا کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود وزیر آباد کارڈیالوجی کو مکمل فعال کیوں نہیں کیا جا سکا ؟ہسپتال میں ان دنوں وہ علاج کیا جا رہا ہے جو مقامی ڈسپنسریوں میں کیا جاتا ہے ۔ پانچویں سوال میں پوچھا گیا کہ دل کا مریض ایمرجنسی میں لاہور لاتے ہوئے انتقال کر جائے تو اسکا ذمہ دار کون ہوگا اور جنوبی پنجاب میں بڑے اور عالمی معیار کے ہسپتال کیوں نہیں بنائے جاتے، کیا جنوبی پنجاب کے شہری پاکستانی نہیں؟ چھٹے سوال میں خادم اعلیٰ سے پوچھا گیا پرائمری ہیلتھ پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی؟ ساتویں سوال میں وزیر اعلیٰ سے پوچھا گیا کہ آئے روز ینگ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے جائز حقوق کیلئے سڑکوں پر ہوتے ہیں اور پریشان مریض ہوتے ہیں، انکے مطالبات کیوں نہیں منظور کئے جاتے؟ قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے وزیر اعلیٰ کے جنرل ہسپتال کے دورے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وزیراعلیٰ پہلے ہسپتالوں کی حالت زاربہتر بنائیں ، صحت کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے ہنگامی اقدامات اٹھائیں پھر دورے کریں ایسے ’’ ڈرمائی دوروں‘‘ سے غریب کو کچھ نہیں ملنے والا۔ عملی اقدامات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…