بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاک چین دوستی زندہ باد ، چینی سفیر کے بیان نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر دیا

datetime 28  جولائی  2016 |

پشاور (آئی این پی) عوامی جمہوریہ چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے چار رکنی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز پشاور یونیورسٹی کا دورہ کیا اور جامعہ میں بننے والے چائنہ سٹڈی اینڈ ریسرچ سٹڈی سنٹر کے لئے وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسرڈاکٹر محمد رسول جان کو چینی حکومت کی طرف سے اشتراکی چیک پیش کیا۔ چائنہ سٹڈی سنٹر جوکہ امسال ستمبر سے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دے گا میں چینی زبان ، کلچر اور رہن سہن پرتحقیق کی جائی گی۔ علاوہ ازیں سنٹر میں پروفیشنل ڈپلومہ ، ڈگری اور ریسرچ کورسز طلبہ کو پڑھائے جائینگے تاکہ ہمسایہ برادر ملک کے زبان ، رہن سہن سمیت پاکستان اور چین کے راہداری منصوبے کو مفید و فعال بنانے کے لئے پیشہ ور افرادی قوت پیدا کی جائے گی۔ اسکے علاوہ سنٹر کا کام مشترکہ ایکسچینج پروگرامز کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے مابین روابط میں پل کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سنٹر ابتدائی طور پر جامعہ کے شعبہ ریجنل ( علاقائی) سٹڈی میں قائم کیا جائے گا جسے چینی و پاکستانی حکومت کی باہمی مشاورت سے ایک آزاد ڈائریکٹر کے زیر نگرانی کنفیوشس سنٹر کی شکل میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد رسول جان نے چینی حکومت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر کٹھن وقت میں سر خرو ہو کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین عوامی روابط ہی لازوال دوستی کا طرہ امتیاز ہے۔ وائس چانسلر نے امید ظاہر کی کہ چائنہ سٹڈی سنٹر کے قیام سے دونوں ممالک کے طلبہ اور ریسرچرز بالخصوص نوجوانوں کو ایک دوسرے کی تجربات سے فائدہ اٹھانے کا بھر پور موقع میسر آئے گا جس سے خطے میں نمایاں مثبت تبدیلی آئی گی۔ اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ اس سال پاکستان اور چائینہ سفارتکاری کے 65 سال منا رہا ہے جوکہ ان دونوں ممالک کی دوستی کے عیاں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کو اپنے قریب ترین دوست کا درجہ دیتا ہے اور اگر دنیا میں چین کا ایک دوست گنا جائے تو وہ صرف پاکستان ہی ہوگا ،جس کے ساتھ اس کے کئی مشترکہ مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ ہر ایک شعبے بالخصوص معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں بھر پور تعاون کر نا چاہتا ہے۔ انہوں نے چائنہ سٹڈی سنٹر کا اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اپنی حکومت کی طرف سے مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چین اور پاکستان کی راہداری منصوبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ منصوبہ حطے میں گیم چینجر کا کردار ادا کرنے گا اور اس ضمن میں قراقرم ہائی وے اور گوادر پورٹ کو پہلے حصے میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں چینی سفارت خانے کے پولیٹیکل اٹاچی ہی لیو، ڈینز ڈاکٹر منہاج الحسن، داکٹر عدنان سرور خان، شعبہ ریجنل سٹڈی کے چیرمین ڈاکٹر بابر شاہ، ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر زاہد گل، ٹریڑر ڈاکٹر یورید احسن ضیاء اور خیبر پختو نخوا میں پاک چائنہ دوستی کے سفیر سید علی نواز گیلانی بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…