منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پاک فوج زندہ باد ، سرکاری ادارے نے ترقی کی نئی منازل طے کر لیں

datetime 20  جولائی  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو چیئرمین ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے آگاہ کیا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی سیل ایک برس میں 370ملین سے بڑھ کر900 ملین ہوگئی۔ادارے کی آمدن 142 فیصد بڑھ گئی پہلے 152 ملین کا نقصان تھا اب ادارہ 92 ملین کے پرافٹ میں ہے۔ادارے کے پاس 700ملین کے آرڈر موجود ہیں۔پہلی مرتبہ ادارے نے 94 فیصد صلاحیت پر کام کیا۔پہلے مشین ٹول فیکٹری بند پڑی تھی،اب کمپنی کو 512 ملین کا پرافٹ ہوا ہے۔ادارے کا خسارہ 30فیصد کم کیا ہے۔ادارہ اب اپنے وسائل سے تنخواہیں دے رہا ہے۔ادارے نے 280 ملین کے آرڈر مکمل کئے ہیں.ایک ارب کے آرڈر مزید موجود ہیں۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی صدارت میں ہوا اجلاس میں نجکاری کمیشن کی جانب سے مختلف اداروں کی نج کاری کے عمل پر بریفنگ دی گئی کمیٹی نے ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے کنونئیر کمیٹی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ،1997 سے اسے فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کامیابی کیوں نہیں ہوئی۔سیکرٹری نجکاری کمیشن احمد نوار سیکھیرانے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے انکار کے بعد سٹیل ملز کی نجکاری کا عمل شروع کردیا ہے۔چیئرمین ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے بتایا کہ ایچ ای سی خسارے سے نکل آئی ہے اور اب اس کا قبل از ٹیکس منافع نو کروڑ تیس لاکھ روپے ہو گیا ہے ،ستر کروڑ کے آرڈرز ہمارے پاس ہیں وزارت صنعت و پیداوار نے ایچ ای سی کی نج کاری کی مخالفت کردی رکن کمیٹی میاں منان نے کہاکہ اگر ایچ ای سی منافع بخش ہوگئی ہے تو اس کی نجکاری نہ کی جائے۔ چئیر مین ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے بتایا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی سیل ایک برس میں 370ملین سے بڑھ کر900 ملین ہوگئی۔ادارے کی آمدن 142 فیصد بڑھ گئی.پہلے 152 ملین کا نقصان تھا اب ادارہ 92 ملین کے پرافٹ میں ہے۔ادارے کے پاس 700ملین کے آرڈر موجود ہیں۔پہلی مرتبہ ادارے نے 94 فیصد صلاحیت پر کام کیا۔پہلے مشین ٹول فیکٹری بند پڑی تھی،اب کمپنی کو 512 ملین کا پرافٹ ہوا ہے۔ادارے کا خسارہ 30فیصد کم کیا ہے۔ادارہ اب اپنے وسائل سے تنخواہیں دے رہا ہے۔ادارے نے 280 ملین کے آرڈر مکمل کئے ہیں.ایک ارب کے آرڈر مزید موجود ہیں.چیئرمین سٹیٹ انجیئرنگ کارپوریشن نے بتایا کہ پہلے ہمارے پاس ملازمین ک تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں تھے،مگر اب بعض اداروں کی حالت بہتر ہویی ہے،حکومت سے اب بیل آوٹ پیکج نہیں مانگ رہے،،مشینری چل رہی ہے اور نئے آرڈرز ملے ہین،،انتظامیہ بہتر کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…