جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک مقبوضہ کشمیر کی پوسٹس کے ساتھ کیا کررہاہے؟ حمزہ علی عباسی فیس بک کے عتاب کا نشانہ بن گئے‎

datetime 19  جولائی  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)حمزہ علی عباسی فیس بک کے عتاب کا نشانہ بن گئے،تفصیلات کے مطابق برہان وانی کو خراج تحسین فیس بک کو نہ بھایا اور معروف پاکستانی فنکار حمزہ علی عباسی کی برہان وانی کے بارے میں پوسٹ جس میں انہوں نے اپنے خیالات کااظہار کچھ یوں کیاتھا کہ برہان وانی۔ جو کہ آئی ایس آئی کاایجنٹ نہیں تھا جو ایک ملا نہیں تھاجس کو پاکستان نے نہیں بنایاتھا برہان وانی جس نے اپنے بھائی کے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں قتل کے بعد کشمیر میں آزادی کی لڑائی لڑنا شروع کی ۔۔۔۔! حمزہ علی عباسی کی فیس بک پر برہان وانی کے بارے میں کی جانیوالی یہ پوسٹ فیس بک کو نہ پسند آئی اور انہیں بالاخر فیس بک کے سخت ایکشن کاسامناکرنا پڑ ہی گیا،یہ انکشاف حمزہ علی عباسی نے اپنے ٹویٹ میں کیا انہوں نے فیس بک پر طنز کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں کہا کہ ”شاباش فیس بک ۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کو 10 دن ہوگئے، 60 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں اور ہم اس کے بارے میں بات بھی نہیں کرسکتے”۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حمزہ علی عباسی کی پوسٹ کو فیس بک ہٹا چکا ہے جو کہ چارلی ہیبڈو حملے سے متعلق تھی ،معروف سینئر کالم نگار ارشاد محمود نے فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب فیس بک والے بھی پاپندیاں لگانے لگے،یہ جان کر حیرت ہوئی کہ فیس بک پرکشمیر پر لکھی گئی تحریریں اور ‎
تصویریں غائب کی جارہی ہیں۔انگریزی روزنامہ کشمیر مائنیٹر نے سید علی گیلانی کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی پوسٹ لگائی تو اسے فوری طور پر اتاردیا گیا۔کشمیر میں جاری حالیہ تشدد کی لہر کے خلاف دنیا بھر میں لوگ آواز بلند کررہے ہیں۔فطری طور پرسری نگر اور انگلینڈ میں آباد کشمیری سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ تو ہی ہے لیکن دنیا بھر میں لوگ اسے سیاسی مقاصد کی ترویج کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ خاص طورپرعرب بہار کے دوران سوشل میڈیا کی طاقت سے نوجوانوں نے صدرحسنی مبارک جیسے آمر کو چلتاکیا۔ کشمیریوں نے بھی گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز کو دنیا تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اب یہ اطلاعات اور شکایات عام ہیں کہ کشمیر پر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی بات کرنے والوں کی پوسٹیں/تحریریں یا تصاویر غائب کردی جاتی ہیں۔افسوس! مغرب جو اظہار رائے کی آزادی کا علمبردارہے‘جب اس کے یا اس کے اداروں کے مفادات پر ذرا سی زک پڑتی ہے تو وہ بھی عام لوگوں کی آواز دبانے کے لیے ”دیسی اور حکیمی نسخے“ استعمال کرنا شروع ہوجاتاہے‎
19

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…