اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

مو با ئل فون میں ایسی گیم جس نے لو گو ں کو پا گل کر دیا

datetime 15  جولائی  2016 |

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے موبائل فون میں چلائی جانے والی پوکیمون نامی گیم کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے گیمز شہریوں کا قیمتی وقت برباد کررہی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کے سیکرٹری ڈاکٹر عباس شومان نے ایک بیان میں موبائل فون میں گیموں کے استعمال کو عوام الناس کے لیے ایک منفی رحجان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’پوکیمون‘ نامی موبائل گیم نے لوگوں کو پاگل اور نشئی بنا دیا ہے۔ گھروں، دفاتر، بسوں، تعلیمی اداروں سمیت ہر جگہ چھوٹے اور بڑے مردو خواتین ہر ایک کو پوکیمون گیم میں مصروف دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ شہریوں کے لیے اس سے زیادہ ضروری کام اور کوئی نہیں رہا ہے۔
ڈاکٹر شومان کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ موبائل فون اور جدید مواصلات آلات نے روز مرہ زندگی میں غیرمعمولی سہولیات فراہم کی ہیں اور لوگ آسانی کے ساتھ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں مگر ان موبائل فونز کی آڑ میں شہریوں کا غیر ضروری مشاغل میں الجھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹی عمر کے افراد اور بچوں میں گیمزکے شوق کی بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے مگر سنجیدہ شہریوں اور بڑی عمر کے افراد کا اس لت میں پڑنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پوکیمون جیسے کھیل بچوں کے حصول علم میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس حوالے سے بچوں اور ان کے والدین کو غیرمعمولی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ جامعہ الازھر کی جانب سے موبائل فون گیمز سے متعلق یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب حال ہی میں مصری حکومت کے ترجمان حسام القاویش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ایسی موبائل ایپلی کیشنز کی ڈاؤن لوڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بن سکتی ہیں۔ پوکیمون گیم کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جوب میں حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ انٹرنیٹ گیمز کے خطرات سے آگاہ ہے اور خطرناک گیمز کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…