منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

جب 42مسافر وں کی زندگی اور موت میں 17سیکنڈ کا فاصلہ تھا ڈرائیور نے بریک لگائی تو کیا ہوا ؟

datetime 13  جولائی  2016 |

چینگ ڈو (مانیٹرنگ ڈیسک) ’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ ، یہ ضرب المثل گذشتہ روز چین کے جنوب مغربی صوبے سچوان کے علاقے یا آن سے گزرنے والی اس مسافر بس پر صادق آتی ہے جس میں 42مسافر سوار تھے کہ وہ صرف 17سیکنڈ کے وقفے سے موت کے منہ سے بچ نکلے ۔تفصیلات کے مطابق ایک مسافر بس جس میں 42افراد سوار تھے یا آن ہائی وے پر پوری رفتار سے جارہی تھی کہ سڑک ساتھ پہاڑ سے چند پتھر لڑھک کر سڑک پر آنے لگے ،59سالہ ڈرائیور ہوانگ گاؤ کوآن نے حالات کو بھانپتے ہوئے بس فوراً روک لی ، بس کے رکتے ہی 11ہزار مربع میٹر کا ایک پہاڑی تودہ بس کے سامنے سڑک سے آگرا ، بس رکنے اور پہاڑی تودہ کے گرنے میں صرف 17سیکنڈ کا وقفہ تھا اگر ڈرائیور کی چھٹی حس اسے بس روکنے پر آمادہ نہ کرتی تو نہ صرف یہ بس مکمل طورپر پہاڑی تودے کے نیچے آ کر تباہ ہو جاتی بلکہ 42قیمتی جانیں بھی ضائع ہو جاتیں ، ڈرائیو ر نے جونہی بس کو بریک لگائی خوف سے مسافروں کی چیخیں نکل گئیں لیکن جب چند لمحوں بعد ان کے سامنے سڑک پر ایک بڑا پہاڑی تودہ آگر
ا تو انہوں نے ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے فوری فیصلہ کر کے ان کی جان بچا لی ۔ ایک مسافر نے کہا کہ ہم اپنی زندگیاں ڈرائیور ہوانگ کے نام کرتے ہیں جبکہ ایک مسافر نے اس سارے واقعہ کو فلم بند بھی کیا جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ 42مسافروں کی زندگی اورموت کے درمیان صرف 17سیکنڈ کا فاصلہ رہ گیا تھا ، سچ ہے کہ ’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ ، چین بھر میں سوشل میڈیا پر ڈرائیور ہوانگ کو ہیروقرار دیا جارہا ہے۔ ڈرائیور ہوانگ نے بعد ازاں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈرائیور کو گاڑی چلاتے ہوئے سڑک اور اس کے ماحول کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے اور خطرے کی صورت میں گاڑی بھگانے سے گاڑی روک لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ میر ی زندگی میں کئی خطرناک لمحات آئے ہیں گذشتہ رات بھی میں نے خواب دیکھا تھا کہ میں مٹی کے ایک تودے کے نیچے دب گیا ہوں ، اس لئے میں زیادہ محتاط تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…