منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

سات سو سال قبل جانور انسانوں کی کونسی چیز استعمال کرتے تھے ؟ آکسفورڈ یونیورسٹی کی حیران کن تحقیق منظر عام پر

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

برازیلیا (مانیٹرنگ ڈیسک)برازیل میں ماہرین آثار قدیمہ کو پتھروں سے بنے ایسے قدیم آلات کے شواہد ملے ہیں جنھیں بندر استعمال کرتے تھے۔برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایسے پتھر دریافت کیے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سات سو سال پرانے ہیں اور ان کی مدد سے جانور چھلکے توڑ کر خشک میوے نکالتے تھے ٗپتھر کے ان ہتھوڑوں پر کاجو کا صدیوں پرانا تیل لگا ہوا ہے۔یہ ہتھوڑے ایک ایسے علاقے میں درخت کے نیچے دفن ملے ہیں جہاں اب بھی کپوچن بندر رہتے ہیں۔یہ دریافت اس بات کی تازہ ترین شہادت ہے کہ کووں سے لے کر بندروں تک غیر انسانی مخلوق بھی آلات کی مدد سے کام کرتی رہی ہے۔تازہ تحقیق میں آکسفرڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کی ٹیم شامل تھی جنھوں نے سیئرا دا کیپیوارا نیشنل پارک میں موجود کپوچن بندروں اور اسی مقام سے آثار قدیمہ کے اعداد وشمار کو یکجا کرنے کے بعد اس کا جائزہ لیا۔محققین نے دیکھا کہ جنگلی بندر کھانے کی سخت چیزوں جیسے بیجوں اور کاجو کو توڑ کر نکالنے کے لیے پتھروں کو بطور ہتھوڑی استعمال کرتے ہیں ٗچھوٹے بندر بڑے بندروں سے بالکل ایسا ہی کرنا سیکھتے ہیں۔محققین کی ٹیم کی قیادت آکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر مائیکل ہیسلم کر رہے ہیں جو اس سے قبل تھائی لینڈ سے بھی ایسے ہی شواہد پیش کر چکے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بندروں کی ایک نسل کئی دہائیوں تک پتھروں کو آلات کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔آثار قدیمہ سے متعلق طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے اس جگہ پر اعشاریہ سات میٹر کھدائی کی جہاں کاجو کے درخت موجود تھے اور کپوچن بندر مسلسل وہاں اپنے پتھروں کے آلات کو استعمال کر رہے تھے۔محققین نے کھدائی کر کے کل 69 پتھر نکالے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا اس تکنیک میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…