منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’ 70 ہزار سال پہلے پردیسی ستارے کا نظامِ شمسی سے گزر‘

datetime 19  فروری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 70 ہزار سال قبل ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک ستارہ ہمارے نظام شمسی میں سے گزرا تھا۔سائنسدان کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی بھی باہر کا ستارہ ہمارے نظام شمسی کے اتنے قریب سے نہیں گزرا۔تحقیق دانوں کی بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ ہمارے سب سے قریبی ستارے پروکسیما سینٹوری سے بھی زیادہ قریب آ گیا تھا۔شولز نامی ستارہ ہمارے شمسی نظام کی بیرونی حد کے قریب سے گزرا جس کو اورٹ کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ہمراہ ایک اور ستارہ بھی تھا۔یہ تحقیق ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہمارے سب سے قریب موجود ستارہ پروکسیما سینٹوری ہم سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ ستارہ 0.8 نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔ہمارے سب سے قریب موجود ستارہ پروکسیما سینٹوری ہم سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ ستارا 0.8 نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔
ماہرینِ فلکیات
نیو یارک کی روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک بتاتے ہیں کہ سائنسدانوں کی ٹیم کو 98 فیصد یقین ہے کہ یہ ستارہ اورٹ کلاؤڈ کے بیرونی حصے سے گزرا تھا جہاں کھربوں دمدار ستارے موجود ہوتے ہیں۔
اس ستارے کا راستہ معلوم کرنے کے لیے سائنسدانوں کو دو معلومات درکار تھیں۔ ایک تو ستارے اور سورج کے فاصلے میں تبدیلی اور دوسری اس کی حرکت۔شولز ستارہ اس وقت ہماری نظام شمسی سے 20 نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اورٹ کلاؤڈ سے گزرنے والا ستارہ نظام میں موجود دمدار ستاروں کے مدار میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ان کو نظامِ شمسی کے اندرونی حصے کی جانب بھیج سکتا ہے۔ تاہم روچسٹر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایرک کا کہنا ہے کہ شولز نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
ایرک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اورٹ کلاؤڈ میں کھربوں دمدار ستارے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس ستارے کے باعث ان میں کچھ تبدیلی آئی ہو۔ لیکن ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ستارے کے باعث دمدار ستاروں کی بارش ہو۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…