منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھونکنا کتے کی فطرت ہے،لیکن ایک عدالت اسے بدلنے پر تل گئی

datetime 17  فروری‬‮  2015 |

بھونکنا کتّے کی فطرت ہے مگر کروشیا کی ایک عدالت انسان کے دیرینہ رفیق کی فطرت کو تبدیل کرنے پر تُل گئی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ کتا رات میں نہ بھونکے!

یہ قصہ ہے کروشیا کے ایک گاؤں کا۔ اینتن سمونووک اورگورباکرونوف ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ عام دیہاتیوں کی طرح یہ دونوں بھی کاشت کاری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ البتہ اینتن نے گھر سے ملحق احاطے میں مویشی بھی پال رکھے ہیں۔ گھر اور مویشیوں کی چوکیداری کے لیے اینتن نے ایک خطرناک قسم کا کتا پال رکھا ہے جسے وہ پیار سے میڈو کہتا ہے۔ میڈو دن بھر زنجیر سے بندھا رہتا ہے مگر رات میں اسے گھر اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے کُھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پچھلے مہینے کے ابتدائی دنوں میں گوربا نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی کہ پڑوسی اینتن کے کتے نے اس کاجینا دوبھر کردیا ہے۔ گوربا کا کہنا تھا کہ اینتن کا کتا رات بھر بھونکتا رہتا ہے۔ کتے کے بھونکنے کی تیز کرخت آواز اس کی نیند اڑا دیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صحت خراب رہنے لگی ہے جس کا اثر اس کے معمولات زندگی پر پڑا ہے۔ درخواست کے مندرجات کے مطابق گوربا نے اپنے پڑوسی سے کئی بار شکایت کی کہ میڈو کے بھونکنے کی وجہ سے ا س کی نیند میں خلل پڑتا ہے لہٰذا وہ اس مشکل کا کوئی حل ڈھونڈے مگر اینتن نے اس کی شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

اینتن نے عدالت میں گوربا کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میڈو عام کتوں کی طرح ہے۔ وہ بلّی کو دیکھ کر یا گھر میں کسی اجنبی کی آمد ہی پر بھونکتا ہے۔ مگر چند سماعتوںکے بعد عدالت نے گوربا کرونوف کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے رات میں کتے کے بھونکنے پر پابندی لگادی ہے!عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اینتن اپنے کتے کو بھونکنے سے روکے، بہ صورت دیگر اسے 2800 یورو جرمانہ بھرنا پڑے گا۔

عدالت کے حکم پر اب میڈو رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک پنجرے میں بند رہتا ہے۔ کروشیا میں وہ واحد کتا ہے جس کے بھونکنے پر عدالت نے پابندی عائد کی ہے۔

میڈو پر عدالتی پابندی کا سوشل میڈیا پر چرچا ہورہا ہے۔ لوگ اس فیصلے پر تنقید کررہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں نے میڈو سے ’اظہار یکجہتی‘ کے لیے فیس بُک پر اس کا پیج بھی بنادیا ہے جسے اب تک تیس ہزار سے زائد یوزر جوائن کرچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…