منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک پر پرائیویسی سیٹنگ ’پبلک چار سطروں کے کوڈ کے ساتھ ڈلیٹ کر نا ممکن

datetime 17  فروری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔ایک آن لائن سکیورٹی محقق کا کہنا ہے کہ فیس بک پر جن تصاویر کی پرائیویسی سیٹنگ ’پبلک‘ ہو ان کو کوئی بھی شخص چار سطروں کے کوڈ کے ساتھ باآسانی ڈلیٹ کر سکتا ہے۔لکشمن متھییا فیس بک کی ایپس بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ٹول اے پی آئی گراف کے ساتھ تجربہ کر رہے تھے۔
اپنی تصاویر پر تجربے کے دوران ان کو کوڈ میں تھوڑی جوڑتوڑ کر کے ایک تصویر کو ڈلیٹ کرنے طریقہ پتا چل گیا۔اپنے بلاگ پر انھوں نے لکھا ہے کہ ’ کیا ہو اگر آپ کے علم میں آئے بغیر آپ کی تصاویر ڈلیت کر دی جائیں؟ کافی برا محسوس کریں گے نہ آپ؟ میں آپ کی تمام تصاویر جن کی پرائیویسی سیٹنگ پبلک ہے کو ڈلیٹ کر سکتا ہوں۔‘لکشمن کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوراً اس مسئلے کی اطلاع فیس بک کی سکیورٹی کو ٹیم دی۔’ انھوں نے اس مسئلے کی نشاندہی میں انتہائی تیزی کا مظاہرہ کیا اور دو گھنٹے کے اندر اس کو حل کر لیا۔‘
ہمیں اپنے اے پی آئی گراف کے ساتھ ایک مسئلے کے بارے میں رپورٹ موصول ہوئی تھی جسے ہم نے فوری طور پر حل کر دیا تھا۔ ہم محقق کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ہمارے مسئلے کی نشاندہی کرنے والے پروگرام کے ذریعے ہمیں اس کی اطلاع دی۔
فیس بک
اس مسئلے کے نتیجے میں کسی غلط کام کی اطلاع سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی کوئی ذاتی تصاویر اور ڈیٹا اس سے متاثر ہوئے ہیں۔فیس بک کے ترجمان نے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں اپنے اے پی آئی گراف کے ساتھ ایک مسئلے کے بارے میں رپورٹ موصول ہوئی تھی جسے ہم نے فوری طور پر حل کر دیا تھا۔ ہم محقق کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ہمارے مسئلے کی نشاندہی کرنے والے پروگرام کے ذریعے ہمیں اس کی اطلاع دی۔‘خیال رہے کہ فیس بک کے مسائل کی نشاندہی کے پروگرام کے تحت’اخلاقی‘ کمپیوٹر ہیکر سائٹ کو لاحق خطرات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
اس طرح کے مسائل کی نشاندہی کرنے والوں کو بعض اوقات نقد انعامات بھی دیے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کے نام سائٹ کے شکریہ کے ایک صفحے پر بھی لکھے جاتے ہیں۔لکشمن نے اپنے بلاگ پر فیس بک کے اس پیغام کی تصویر شائع کی ہے جس میں اس غلطی کی نشاندہی کے اجر کے طور پر فیس بک نے انھیں 12 ہزار ڈالر کی پیشکش کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…