منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان اورامریکہ،پاکستان نے دوٹوک پالیسی اپنالی،اقوام متحدہ میں کھری کھری سنادیں

datetime 22  جون‬‮  2016 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی حدود میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ناقابل قبول ،پاکستان کی خود مختاری ،اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونیوالے سہ ماہی مباحثے کے دوران افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرملیحہ لودھی نے افغان نمائندے کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات بلا جواز اور بے بنیاد قرار دیا ، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے افغانستان میں امن عمل کی حمایت کیلئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی طرف سے خلاف ورزی برداشت نہیں کریگا، انہوں نے کہا کہ آیا عالمی برادری افغانتان میں بات چیت کیلئے امن کی خواہاں ہے یا وہاں مسئلے کا فوجی حل چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلے کے فوجی حل کی بات کرنیوالوں کو اس کے نتائج کے بارے میں سوچنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے افغانستان کو مستحکم کرنے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال ناکام ہوچکا ہے، آپریشن ضرب عضب کا ذکرکرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یہ دنیا بھر میں سب سے بڑی اور موثر ترین مہم ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس آپریشن سے غیر معمولی نتائج حاصل کئے ہیں اور ملک میں موجود دہشت گردی کے تمام خطرات کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، انہوں نے کہا افغان حکومت اور بین الاقوامی اجتہاد پر زور دیا کہ وہ تحریک طالبان کے عناصر کیخلاف ایکشن لیں جنہوں نے افغانستان میں پناہ حاصل کررکھی ہے، انہوں نے کہا کہ ان عناصر کی پناہ گاہوں کا خاتمہ امن اور سلامتی کیلئے ضروری ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان حکومت پاکستان کی تجویز پر سرحدی حوالے سے ضابطہ کار اور مشترکہ بارڈر کمیشن کی تشکیل کو حتمی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتا،انہوں نے کہا کہ موثر بارڈر مینجمنٹ میرے ملک کا حق ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان سرحد پر اپنی جانب جو بھی اقدامات ضروری ہوئے اٹھائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…