منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ذوالفقار مرزا نے پردہ اٹھا دیا،بلاول ،زرداری اختلافات کی تصدیق

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

بدین/کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے ناراض رہنما ڈاکٹرذوالفقارمرزا نے دعوی کیا ہے کہ سندھ حکومت کی خراب کارکردگی پر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ‘شدید اختلافات’ ہیں۔

سابق صوبائی وزیر داخلہ اور ماضی میں زرداری کے انتہائی قریبی ساتھی مرزا نے کہا ‘باپ اور بیٹے کے درمیان اختلافات رد کرنے والے چاپلوس جھوٹے بول رہے ہیں لیکن میں دونوں کے درمیان اختلافات کی مکمل تصدیق کرتا ہوں’۔

پیر کو شام گئے گولارچی ٹاؤن میں واقع اپنے فارم ہاؤس پر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا بلاول سندھ حکومت کی پرفارمنس اور ‘ کرپٹ، نااہل’ وزرا سے ‘سخت ناخوش اور غیر مطمئن’ ہیں۔

مرزا نے الزام لگایا کہ سندھ کے وزراء شہید رہنما بے نظیر بھٹو کے مشن سے پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

غصہ میں بپھرے مرزا نے صوبائی وزراء پر مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیسے لے کر ملازمتیں فروخت کر رہے ہیں حتی کہ انہوں نے پارٹی ورکرز سے بھی رشوت لی۔

‘بلاول اپنی والدہ کی طرح پارٹی کے امور چلانا چاہتے ہیں لیکن وہ خود کو ذاتی مفادات میں گھرا ہوا دیکھ رہے ہیں’۔

مرزا کے مطابق، بلاول کی ‘صاف گوئی’ نے خود ان کیلئے مسائل کھڑے کر دیے ۔

سابق وزیر نے بتایا کہ اگر پارٹی قیادت نے ان کے تحفظات دور نہ کیے تو سندھ کی محروم عوام کی خدمت کیلئے وہ اگلے عام الیکشن سے پہلے اپنا راستہ الگ کر سکتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پارٹی شہداء اور بانیوں کی سوچ سے عاری موقع پرست اور بدعنوانوں ‘نے پارٹی کو مکمل طور پر ہائی جیک کر لیا۔

انہوں نے ڈاکٹر بابر اعوان اور سینیٹر رحمان ملک پر الزام لگایا کہ دونوں نے بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق زرداری کو ‘ گمراہ کن اور غلط’ معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے دونوں رہنماؤں کو بے نظیر قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

‘صرف ایک دہشت گرد گروہ کو بے نظیر بھٹو قتل کا ذمہ دار ٹھرانا درست نہیں’۔

انہوں نے سندھ حکومت پر ہزاروں ایکڑ اراضی بلڈرز کو الاٹ کرنے اور ریاستی قوت کے ذریعے سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے زیر قبضہ زمین چھڑانے اور انہیں لوگوں میں تقسیم کرنے کا عہد کیا۔

ادھر، بلاول کے میڈیا ایڈوائزر جمیل سومرو نے منگل کو ڈان سے گفتگو میں مرزا کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ‘پارٹی نے پہلی مرتبہ ایسے الزامات اور افواہوں کو مسترد نہیں کیا’۔

‘ بلاول او ر زرداری کے درمیان کوئی اختلافات نہیں اور ماضی میں کئی ایسے الزامات مسترد کر چکے ہیں’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…