منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گاڑی میں پیٹرول بھروانے کی ٹینشن ۔۔۔ اب نہیں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

سی این جی کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں لگے رہنے کی اذیت سے پاکستانی بخوبی آشنا ہیں۔

اپنی باری آنے کے منتظرین کے دلوں میں یہ خواہش یقیناً پیدا ہوتی ہوگی کہ کاش بجلی اور گیس کے بِلوں کی ادائیگی کی طرح انھیں سی این جی بھروانے کے لیے قطار میں کھڑے ہونے کی اذیت سے نجات مل جائے۔ شائد انھی ’ بے چاروں‘ کے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سوئڈن کی مشہور گاڑی ساز کمپنی ایسی کاریں تیار کررہی ہے جنھیں ایندھن بھروانے کے لیے گیس اسٹیشن لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پھر گاڑی میں سی این جی یا پیٹرول کیسے بھرا جائے گا۔ دراصل جب فیول ٹینک میں ایندھن ختم ہونے کے قریب ہوگا تو کار اسمارٹ فون کے ذریعے ’ موبائل فیول سپلائر‘ کو میسیج بھیجے گی۔ اس میسیج کے جواب میں ایندھن فراہم کرنے والی کمپنی کی گاڑی وہاں پہنچے گی۔ گاڑی میں سوار عملے کا رکن میسیج کے ساتھ بھیجے گئے کوڈ کی مدد سے کار کے فیول ٹینک کا ڈھکن کا کھولے گا اور ایندھن بھردے گا۔ اس طرح کار چلانے والا ایندھن کی طرف سے بالکل بے فکر ہوجائے گا۔

اس پروجیکٹ کے بارے میں سویڈش کمپنی میں شعبہ ٹیکنالوجی کے سربراہ کلاس بینڈرک نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا،’’اسمارٹ فون کا بڑھتا ہوا استعمال نئے دَر وا کررہا ہے۔ اس کا دائرہ کار اب آٹوموٹیو انڈسٹری تک وسیع ہوگیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کار اور ڈرائیور کے باہمی رشتے کو نئی سمت دے رہی ہے۔‘‘

کلاس بینڈرک کے مطابق ان کی کمپنی اپنی کاروں میں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے نت نئے استعمالات کے تجربات کررہی ہے۔ اس سلسلے میں کمپنی ایک ایسے نظام کی کام یاب آزمائش کرچکی ہے جس کے ذریعے ڈرائیور کوریئر فرم سے پارسل گھر یا دفتر کے بجائے کار میں وصول کرسکے گا۔ یہ سروس بالخصوص ان ملازمین کے لیے مفید ثابت ہوگی جنھیں اپنے دفتر کی حدود میں نجی پارسل وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

سویڈش کمپنی کی کچھ کاروں میں یہ سہولت دی گئی ہے کہ ڈرائیور گھر کے اندر سے باہر کھڑی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر جمی برف کو ہٹانے کے لیے de-icer کو فعال کرسکتے ہیں۔ یوں جب وہ باہر جانے کے لیے گاڑی تک پہنچیں گے تو ونڈ اسکرین برف سے پاک ہوچکی ہوگی۔ اسی طرح ایک جدید نظام کی بدولت وسیع کار پارکنگ میں کھڑی ہوئی گاڑی ہارن بجاکر اور بتیاں جلا بجھاکر ڈرائیور کو اپنی جانب متوجہ کرسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…